.

برطانوی اسکولوں میں ہر پانچویں لڑکی کو جنسی ہراسیت کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں اسکولوں میں ہر پانچ میں سے ایک لڑکی کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے یا اس سے زبردستی جنسی مراسم استوار کیے جاتے ہیں جبکہ پانچ میں سے نصف کا کہنا ہے کہ انھیں گالم گلوچ کا سامنا رہا ہے۔

یہ بات بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک خیراتی ادارے نے اپنے ایک سروے کے نتائج میں بتائی ہے۔''پلان یوکے'' نامی اس غیر سرکاری ادارے نے دو ہزار سے زیادہ خواتین سے سروے کیا ہے۔ان میں سے 22 فی صد کو اسکول میں تعلیم کے دوران جنسی ہراسیت ،جنسی تعلق یا ریپ کا سامنا ہوا تھا۔

ان میں سے ساٹھ فی صد خواتین نے اپنے ساتھ پیش آنے والے جنسی ہراسیت کے واقعات کو کبھی رپورٹ نہیں کیا تھا۔پلان یوکے کی مہم مینجر لوسی رسل کا کہنا ہے کہ ''اسکول مکمل طور پر محفوظ جگہیں ہونی چاہییں۔جب اسکولوں میں جنسی ہراسیت کے واقعات ہوں گے تو پھر لڑکیوں کی تمام مواقع میں شرکت کی صلاحیت متاثر ہوگی''۔

انھوں نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''جنسی ہراسیت سے کسی کے اعتماد پر گہرا اثر پڑسکتا ہے۔اس کے شدید جسمانی نقصانات بھی ہوسکتے ہیں اور اس کا انحصار فعل پر ہے۔اس کا ایک مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لڑکیوں اسکولوں میں اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ سکتی ہیں اور اس کے ان کی تعلیم پر طویل المیعاد اثرات مرتب ہوسکتے ہیں''۔

18 اور 24 سال کے درمیان ہر تین میں سے ایک برطانوی عورت کا کہنا ہے کہ انھیں اسکول کے زمانے میں غیر مطلوب جنسی تعلق کا تجربہ ہوا تھا جبکہ 25 سال سے زائد عمر کی ہر دس میں سے ایک عورت کو بھی یہی تجربہ ہوا ہے۔

نیا مظہر نہیں

رسل کا کہنا ہے کہ زائد عمر کی عورتوں کو سروے میں شامل کرنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنسی ہراسیت کوئی نیا مظہر نہیں ہے بلکہ یہ معاشرے میں رچ بس چکا ہے اور خواتین بالعموم اپنی عمروں سے قطع نظر اس معاملے میں رواداری سے کام لیتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ''لڑکیوں کو اس کردار کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انھیں بھی ایسا تجربہ ہوسکتا ہے۔اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ہماری ایسی دادیاں اور مائیں ہوسکتی ہیں جنھوں نے اپنے ساتھ پیش آنے والے ناروا واقعات کو کبھی رپورٹ نہ کیا ہو۔اس لیے جنسی تشدد اور جنسی حملوں کے واقعات کی تعداد کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔نسلوں سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ اس نسل میں اس سلسلے کو روک دیا جائے''۔

انھوں نے بتایا کہ ''اسکولوں میں جنسی ناروا سلوک بچیوں کے تعلیم ادھوری چھوڑنے کی سب سے بڑی وجہ ہے اور دنیا بھر میں صرف اس ایک وجہ سے چھے کروڑ ساٹھ لاکھ لڑکیاں اسکول نہیں جاتی ہیں۔بعض ممالک میں بچیوں کو گھر سے اسکول جانے اور وہاں سے واپس آنے کے دوران راستے میں ہراساں کیا جاتا ہے''۔

یونیسیف کے ایک تخمینے کے مطابق دنیا بھر میں پندرہ کروڑ لڑکیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔خواہ یہ لاگوس ،لیما یا لندن ہو،ہر جگہ لڑکیوں کا ایک ہی مسئلہ ہے اور وہ یہ کہ وہ خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں،اس لیے وہ اسکول نہیں جاسکتی ہیں۔