.

ایک ہفتے میں 68 ایرانی فوجی شام میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے 68 اہلکار ایک ہفتے کے دوران شامی اپوزیشن کے خلاف 'داد شجاعت' دیتے ہوئے شام میں ہلاک ہوئے۔ ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق مرنے والے پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کی اکثریت شمالی حلب کے مضافات میں ہونے والی خونریز لڑائی میں 'کام' آئے۔

ایرانی پاسداران انقلاب نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ شامی اپوزیشن سے جھڑپوں میں ان کے اہم جنرل حمید رضا انصاری ہلاک ہوئے۔ جنرل انصاری کا تعلق پاسداران انقلاب کی روح اللہ کور سے تھا جو ان دنوں وسطی ایران کے شہر اراک میں 'خدمات' سر انجام دے رہی ہے۔

شام میں ایرانی جنگجوؤں کی خبریں جاری کرنے والے ویب پورٹل 'مدافعین حرم' کے مطابق مرنے والے ایرانیوں میں اعلی فوجی افسران بھی شامل ہیں، ان میں پاسداران انقلاب کے اہلکاروں سمیت الباسیج ملیشیا کے رضاکاروں کی بڑی تعداد شامل ہے جو شمالی شام میں جاری لڑائی میں جان گنوا بیٹھے۔

ویب پورٹل کے مطابق حالیہ چند ہفتوں کے دوران الباسیج ملیشیا اور پاسدران انقلاب کے اہکاروں کی شام میں ہلاکتوں کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ بعض رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی فوج، افغانستان، عراق اور پاکستان سے شیعہ ملیشیا کے اہلکار بھی شام پہنچے ہیں۔ شامی اپوزیشن کے خلاف لڑنے والے ان غیر ملکی جنگجوؤں کی تعداد ساٹھ ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

ادھر ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے پاسداران انقلاب کے جنرل قاسم سلیمانی کی ایک تصویر جاری کی ہے جس میں وہ تہران میں زیر علاج ان فوجیوں کی عیادت کرتے دیکھے جا سکتے ہیں جو شامی اپوزیشن کے خلاف لڑتے ہوئے زخمی ہوئے۔

'صراط نیوز' ویب پورٹل نے بتایا کہ جنرل سلیمانی نے اتوار کے روز امیر حسین حاجی نصیری سمیت متعدد ایرانی فوجیوں کی تہران کے ہسپتالوں میں عیادت کی۔

'العربیہ ڈاٹ نیٹ' نے دو ہفتے قبل ایرانی ویب پورٹلز کے حوالے سے بتایا تھا کہ تہران میں پاسداران انقلاب کے 'بقیہ اللہ' ہسپتال میں 1500 زخمی فوجیوں سمیت عراق، افغانستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے شیعہ ملیشیا کے مضروبین زیر علاج ہیں۔ یہ تمام افراد شام میں اپوزیشن کے خلاف لڑائی میں زخمی ہوئے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے شام میں زمینی کارروائی کے اعلان کے بعد سے ایران نے شام میں اپنی لڑاکا فورس میں دگنا اضافہ کر دیا ہے اور وہ تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے بشار الاسد کو شکست سے بچانے میں مصروف ہے۔ ایران، اپنے حلیف بشار الاسد کو بچانے کے لئے شام میں فضائی کارروائی کا بھی عندیہ دے چکا ہے۔