.

داعش کے گھریلو ساختہ بموں میں امریکی اور جاپانی اجزاء

عراقی اور ترک کمپنیوں کا خام مال داعش کے بموں کی تیاری میں استعمال ہورہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ داعش بموں کی تیاری میں بآسانی دستیاب اجزاء استعمال کرتا رہا ہے۔وہ امریکا اور جاپان سے آنے والے بعض اجزاء کیمیکلز وغیرہ کو بھی ان بموں کی تیاری میں استعمال کررہے ہیں۔

یہ بات لندن میں تنازعات کی جگہوں میں اسلحے کی تحقیق کرنے والے ایک ادارے (کار) نے بدھ کو جاری کردہ اپنی رپورٹ میں بتائی ہے۔اس نے بتایا ہے کہ داعش ترکی اور عراق سے تعلق رکھنے والی بعض کمپنیوں کے تیارہ کردہ کیمیکلز اور ڈیٹونیٹرز بھی بموں کی تیاری میں استعمال کررہے ہیں اور یہ کمپنیاں شاید اس بات سے آگاہ نہ ہوں کہ ان کی تیار کردہ اشیاء انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ رہی ہیں۔ان میں سے بہت سے اجزاء شہری مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں،اس لیے وہ بازار میں بآسانی دستیاب ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں سڑک کے کنارے نصب کیے جانے والے بم مزاحمت کاروں کا سب سے موثر اور کارگر ہتھیار رہے ہیں۔داعش نے بکتر بند گاڑیوں میں بارود بھر کر انھیں بم دھماکوں کے لیے استعمال کرنے کا آغاز کیا تھا اور ان گاڑیوں کے ساتھ داعش کے مسلح حملہ آوروں کو بھی بھیجا جاتا تھا تاکہ وہ روایتی فوجی اہداف تک پہنچ سکیں۔

محققین کو داعش کے بموں کی فیکٹریوں سے سات سو سے زیادہ اجزاء اور تیار حالت میں بم ملے تھے جو پھٹ نہیں سکے تھے۔انھوں نے ان اجزاء کو قانونی طور پر حاصل کیا تھا۔

داعش عام کھاد ایمونیم نائٹریٹ کو دھماکا خیز مواد کی تیاری میں استعمال کرتے رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے موبائل فون نوکیا 105 کو بموں کو ریموٹ سے اڑانے کے لیے استعمال کیا تھا۔

داعش نے بموں کی تیاری میں استعمال ہونے والے بیشتر اجزاء ترکی اور عراق کی کمپنیوں سے حاصل کیے تھے اور اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ داعش کی ان تک رسائی آسان تھی۔تاہم تمام سامان دنیا کے قریباً بیس ممالک سے حاصل کیا جاتا تھا۔ان میں بعض اجزاء امریکا ،برازیل ،چین اور جاپان کے ساختہ تھے۔

کار کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جیمز بیون کا کہنا ہے کہ ''رپورٹ کا سب سے اہم انکشاف یہ ہے کہ داعش اپنی کارروائیوں کی جگہوں میں ہتھیاروں اور تزویراتی اشیاء کے حصول میں خود کفیل ہیں اور وہ علاقے میں تجارتی طور پر دستیاب مصنوعات لاسکتے ہیں''۔

البتہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا مقامی تقسیم کنندگان یا کمپنیاں اس بات سے آگاہ تھیں کہ ان کی مصنوعات کہاں جارہی ہیں کیونکہ ان مصنوعات کی ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ منتقلی کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہے۔رپورٹ کے مطابق بعض پروڈیوسروں اور تقسیم کنندگان نے اس حوالے سے سوالوں کا کوئی جواب بھی نہیں دیا تھا۔

داعش کے پاس فوجی اسلحے اور گولہ بارود کی بھی کافی مقدار موجود ہے۔ان میں مشین گنیں،مارٹرز اور امریکی ساختہ حموی گاڑیاں شامل ہیں۔شام اور عراق میں فوجی اڈوں پر قبضے کے وقت یہ ہتھیار اور اسلحہ داعش کے ہاتھ لگے تھے۔انھوں نے شام میں کرد باغیوں پر امریکی طیاروں سے گرائے گئے اسلحے پر بھی قبضہ کر لیا تھا اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ انھوں نے بلیک مارکیٹ سے بھی اسلحہ خرید رکھا ہے۔