.

قبرستانوں کا افتتاح: حوثیوں کی اکلوتی "ترقیاتی سرگرمی"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ستمبر 2014 میں یمن کے درالحکومت صنعاء پر قبضے اور پھر گزشتہ سال کے آغاز میں آئینی حکومت کا سرکاری طور پر تختہ الٹ دینے کے بعد سے... حوثی باغیوں نے یمنی شہریوں کی زندگی کے ہر شعبے کو معطل کر دیا.. تعمیراتی و ترقیاتی سرگرمیوں کا پہیہ جام کر کے اداروں کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا۔

موت وہ اکلوتی چیز ہے باغی ملیشیائیں جس کا بیج بو بھی رہی ہیں اور اسے کاٹ بھی رہی ہیں.. اس کے ساتھ ساتھ صرف قبرستان ہی وہ نئے منصوبے ہیں جن کا باغی نہ صرف افتتاح کر رہے ہیں بلکہ اس سلسلے میں پے درپے نئے سنگ بنیاد بھی رکھے جا رہے ہیں۔

اسی حوالے سے حوثیوں کے زیرانتظام انقلابی کمیٹی کے سربراہ "محمد علی الحوثی" نے دارالحکومت صنعاء میں نئے قبرستانوں کا افتتاح کیا۔ یہ افتتاح لڑائی کے مختلف محاذوں پر مارے جانے والے حوثی ملیشیاؤں کے جنگجوؤں کی لاشوں سے الجراف کے علاقے میں واقع بڑے قبرستان کے بھر جانے کے بعد سامنے آئے ہیں۔

صنعاء میں باخبر ذرائع کے مطابق انقلابی کمیٹی کے سربراہ نے بدھ کے روز حوثیوں سے بھرجانے والے قبرستان کا دورہ کیا اور سرکاری طور پر الجراف کے علاقے (جو دارالحکومت میں باغیوں کا مرکزی گڑھ ہے) میں مقامی کونسل کو ہدایات جاری کیں کہ علاقے میں موجود کھیل کے میدان کو مقبرے میں تبدیل کر دیا جائے۔ اس کی بنیادی وجہ جگہ کی تنگی اور دارالحکومت کے شمال میں واقع مسجد الحشوش میں روزانہ کی بنیاد پر آنے والی درجنوں لاشوں کو ٹھکانے لگانے کا انتظام کرنا ہے۔

حوثیوں کی جانب سے نئے قبرستانوں کا افتتاح ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کہ دارالحکومت صنعاء کے مشرق میں واقع گورنری نہم میں شدید لڑائی جاری ہے۔ گزشتہ ہفتے یمنی حلقوں میں نئی تصاویر گردش میں رہیں جن کے بارے میں ان حلقوں کا کہنا تھا کہ یہ صنعاء کے شامل میں واقع شہر عمران میں حوثی ملیشیاؤں کی جانب سے بنائے گئے نئے قبرستان کی ہیں۔

عمران شہر میں مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس نئے قبرستان 700 کے قریب مقتول حوثی دفنائے جا چکے ہیں... اس سے مختلف محاذوں پر حوثی باغیوں کو ہونے والے بھاری جانی نقصانات کے حجم کا اندازہ ہو سکتا ہے۔

حوثیوں نے رواں ماہ کے آغاز میں صنعاء کے مشرق میں واقع گورنری بنی حشیش میں ایک نئے قبرستان کا افتتاح کیا تھا۔

اس منظرنامے پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سرگرم سیاسی کارکن وسیم محمد کا کہنا تھا کہ "حوثی باغی زندگی بانٹنے والے نہیں بلکہ موت کے سوداگر ہیں.. ان کے ہتھیاروں سے روزانہ درجنوں بے قصور شہری اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں جب کہ روزانہ لڑائی کے محاذوں پر خود ان کے درجنوں اور سیکڑوں جنگجو مارے جا رہے ہیں... تاریخ میں اس بات کا اندراج ہو گا کہ باغیوں کا دور قبرستانوں کا دور ہے"۔