.

شامی 'کافر' قوم ہے: ایرانی رہبر کی نئی درفطنی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے شامی قوم کو ’’کفار‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ 'تہران ،شام میں کافروں سے نبرد آزما ہے اور ہمارے فوجی شام کی سرزمین پرکفار سے اسلام کی جنگ لڑنے کے لیے اجازت طلب کررہے ہیں۔'

خبر رساں ایجنسی ’’فارس‘‘ کے مطابق خامنہ ای کا یہ متنازع بیان دستوری کونسل کے سیکرٹری جنرل حمد جنتی نے نقل کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر نے یہ الفاظ گذشتہ ہفتے تہران میں 46 ایرانیوں کے جنازے کے موقع کہے۔ احمد جنتی کا کہنا ہے کہ میں یہ تصور نہیں کرتا تھا کہ سپریم لیڈر اس نوعیت کا بیان علانیہ کسی محفل میں کریں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر ہمارے فوجی شام میں اپنے دفاع کی جنگ نہ لڑتے تو یہ جنگ ہمیں ایران کے کرمان شاہ اور دوسرے علاقوں میں لڑنا پڑتی۔

احمد جنتی کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر نے اپنے خطاب میں شام میں جاری لڑائی کو اسلام اور کفر کے درمیان جنگ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شہادت کا دروازہ عراق ۔ ایران جنگ کے خاتمے پربند ہوگیا تھا اور اسے شام کے محاذ پر دوبارہ کھولا گیا ہے۔ اب نوجوان شام میں لڑائی کے لیے جانے پر ہم سے اجازت مانگنے پر اصرار کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ سپریم لیڈر کی جانب سے شامی قوم کو' کافر' قرار دینے کا بیان کوئی انوکھا نہیں۔ اس سے قبل بھی وہ متعدد مواقع پر شام میں مرنے والے پاسداران انقلاب کو 'شہداء 'قرار دیتےرہے ہیں جو ان کے بہ قول تکفیریوں کے خلاف اور اہل بیت کے دفاع میں لڑتے ہوئے مارے گے۔ ان کا کہنا ہے کہ' شام میں شہید ہونے والے فوجیوں کے لیے ہجرت اور جہاد کے دو اجر ہیں۔ '