.

ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان: دنیا حیران اور بھارتی پریشان!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ریپبلکن صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حیران کردینے والی نئی باتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک طرف تو انہوں نے مسئلہ فلسطین کو حل کرانے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کرکے اسرائیلی ہمنوا امریکیوں کی دشمنی کا خطرہ مول لیا ... تو دوسری طرف انہوں نے یہ بول کر امریکا کے اہم اتحادی ملک بھارت کے باشندوں کی نیندیں اڑا دی ہیں کہ اگر وہ امریکا کے صدر منتخب ہوگئے تو بھارتیوں کو واپس بھیج دیں گے کیوں کہ بھارتی درحقیقت امریکیوں کی ملازمتیں چھین رہے ہیں۔

ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی ریپبلکن یا ڈیموکریٹک امیدوار نے امریکا کے صدارتی انتخابات میں روایتی دانش مندی کو چیلنج کرتے ہوئے فلسطینی اسرائیلی تنازع میں غیر جانب دار رہنے کی جرات دکھائی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دو حریفوں مارکو روبیو اور ٹید کروز کے تمام مکالموں اور سوالات کے سامنے ڈٹ گئے ہیں... مذکورہ دونوں شخصیات نے عبرانی ریاست کے لیے اپنی حد درجہ حمایت کا اظہار کرتے ہوئے تنازع کو دہشت گردی سے متعلق قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے میں غیر جانب داری کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ صدارت کی کرسی پر پہنچنے کی صورت میں وہ جن مقاصد کو پورا کرنے کے خواہش مند ہیں ان میں " اسرائیل اور اس کے پڑوسیوں کے درمیان امن کو یقینی بنانا" بھی ہے... اور وہ سمجھتے ہیں کہ ایک فریق کو بھلائی اور دوسرے کو شر کا محور قرار دے کر اس کو یقینی بنانا ممکن نہیں،

اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ باور کراچکے ہیں کہ وہ اسرائیل کے ہمنوا ہیں تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ مذاکرات کار پر لازم ہے کہ وہ ایک فریق کے دوسرے فریق کے خلاف موقف کو نہ اپنائے۔ ریپبلکنز کے کیمپ سے باہر آ کر اس طرح کا بیان دینے کے نتیجے میں اسرائیل کی حامی لابی کی توپوں کا رخ ان کی طرف ہوسکتا ہے اور وہ اناجیلی عقائد رکھنے والے (پروٹسٹنٹ) رائے دہندگان کے ووٹوں سے ہاتھ دھو سکتے ہیں جو اسرائیل کی اندھی حمایت میں مبتلا ہیں۔

امریکا کی 12 ریاستوں میں تمہیدی انتخابات سے قبل ٹی وی پر ہونے والے ایک مناظرے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سینیٹر مارکو روبیو کے ساتھ جھڑپ بھی ہوگئی تھی جن کا کہنا تھا کہ "معاملہ جب اسرائیل سے متعلق ہو تو پھر کوئی غیرجانب دار موقف نہیں پایا جاسکتا"۔

روبیو کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کو سنجیدہ معاہدوں کی پیش کش کی مگر وہ ایسا فریق ہیں جس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "فلسطینی اپنے چار سالہ بچوں تک کو یہ سکھاتے ہیں کہ یہودیوں کو قتل کرنا ایک عظیم بات ہے"۔ روبیو کے مطابق اسرائیلی فوج اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے راکٹوں اور فلسطینیوں کی دہشت گردی کے مقابل اپنا دفاع کر رہی ہے۔

غالبا مارکو روبیو کا جارحانہ موقف متوقع تھا کیوں کہ اسرائیلی لابی نے کانگریس میں ان کی نامزدگی کی تائید کی تھی اور یہودی ارب پتی شیلڈن ایڈلسن نے ان کی انتخابی مہم کے لیے لاکھوں ڈالروں کی امداد کا وعدہ کیا۔ بہرکیف یہ ایک اور نکتہ ہے جس کو ڈونلڈ ٹرمپ اپنے حریفوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں کہ وہ کسی لابی کے ڈکٹیشن کے آگے نہیں جھکیں گے کیوں کہ وہ اپنی مہم کے لیے مالی رقوم بھی خود فراہم کررہے ہیں۔

دوسری جانب سینیٹر کروز نے اعلان کیا ہے کہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں وہ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کردیں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کا مسئلہ فلسطین کے حوالے سے غیر جانب دار موقف مسلمانوں کے خلاف ان کے اس موقف سے میل نہیں کھاتا جس میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ داعش تنظیم پر قابو پانے کی حکمت عملی تیار کیے جانے تک وہ امریکا میں مسلمانوں کا داخلہ عارضی طور پر روک دیں گے۔

بھارتیوں کی امریکا سے بیدخلی

دوسری جانب امریکی میڈیا کے مطابق ایک تقریب سے خطاب میں ری پبلکن پارٹی کے ممکنہ صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے باور کرایا ہے کہ بھارتی باشندے امریکی شہریوں کو ملازمتوں کے حق سے محروم کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ لہذا "میں صدر بنا تو بھارتی شہریوں کو امریکا سے نکال دوں گا"۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارتی باشندے امریکی شہریوں کی پریشانی میں اضافہ کر رہے ہیں... بھارتی باشندوں نے امریکی شہریوں کی ملازمتوں پر قبضہ کیا ہوا ہے اور اگر وہ صدر منتخب ہوگئے تو امریکا سے ایک ایک بھارتی شہری کو نکال کر ہی دم لیں گے۔

جہاں تک ٹرمپ کے مواقف، عرب اسرائیل تنازع میں ان کی غیر جانب داری اور بھارتی شہریوں کے بارے میں جارحانہ بیان کا تعلق ہے تو ان سب کے اثرات آئندہ منگل کے روز ابتدائی انتخابات کے موقع پر سامنے آجائیں گے ... اور یہ بات واضح ہوجائے گی کہ آیا وہ واقعتا ریپبلکنز کے امیدوار بن گئے ہیں یا رائے دہندہ ان کو ووٹ دینے سے قبل کئی مرتبہ سوچے گا !