.

یہ ہے آپ کا ایران.. پس چپ ہی سادھ لیجیے !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں سرگرم"آٹھ مارچ" نامی اتحاد میں شامل سیاسی طاقتوں کے ہمنوا یا حامی حلقوں میں کچھ مدت سے ایک خاص مقصد کے لیے آواز بلند ہوتی نظر آرہی ہے۔ یہ آواز ان اپیلوں پر کان نہ دھرنے کے لیے ہے جن میں خلیجی عرب ممالک میں مقیم لبنانی کمیونٹی پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنی ملازمتوں اور روزگار کے لیے ایران کا رخ کریں۔ یہ منتقلی ان خلیجی ممالک کے کسی بھی ایسے ممکنہ عقوبتی اقدام کے جواب میں ہوگی جو یہ ممالک لبنانی ریاست اور اس کے اداروں میں حزب اللہ اور اس کے حلیفوں کے رسوخ .... یا پھر ریاستی اداروں کو خطے میں عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب کے خلاف ایرانی منصوبے کے لیے استعمال کرنے پر احتجاجا کریں۔

جو لوگ ایران کو عرب ممالک کے بدلے آئندہ مرحلے میں روز گار کے بڑے اور بے پناہ مواقع کی جنت بنا کر پیش کررہے ہیں ان کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ ان تمام لالی پوپس کی راہ میں کھڑے ہوجائیں جو ایران اپنی حلیف افرادی قوت اور خطے میں ایرانی منصوبے کی ترجمانی کرنے والی طاقتوں کو پیش کررہا ہے۔ وہ طاقتیں جو ایرانی منصوبے کے دفاع کے لیے لڑنے مرنے کی حد تک چلی گئیں... جولائی 2006 کی جنگ سے لے کر شام کی جنگ تک ... جس کے متعلق ایرانی مرشد اعلیٰ علی خامنہ ای کا کہنا ہے کہ "دمشق کے دفاع کا معرکہ درحقیقت تہران کے دفاع کی لڑائی ہے"۔

خلیجی ممالک میں کام کرنے والی افرادی قوت کو متبادل کے طور پر ایران میں کام کرنے کی دعوت دینے والے کیا یہ جانتے ہیں کہ 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران میں مقیم لبنانیوں کی تعداد کم و بیش ایک ہزار (1000) کے لگ بھگ ہے اور یہ لوگ تین گروپوں میں تقسیم ہیں۔

پہلا گروپ : یہ دینی علوم کے طلبہ اور ان کے گھر والے ہیں۔ ان کا وجود دینی علوم کے مرکز قم شہر کے اندر محصور ہے اور انہیں تحصیل علم کے علاوہ کسی بھی کام کی اجازت نہیں ہے۔

ان افراد کو اپنے بچوں کے لیے نجی اسکول کھولنے کی اجازت نہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے بچوں کو قم شہر کے ایرانی اسکولوں میں داخل کرانے پر مجبور ہیں۔ تاہم اب یہاں لبنان میں حزب اللہ کے زیرانتظام ایک اسکول کی شاخ کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے جہاں غیر لبنانی طلبہ کو ایرانی سرکاری حکام سے طویل اور مشقت سے بھرپور بحث مباحثے کے بعد داخلہ ملتا ہے۔

دینی علوم کے طالب علم کو قم کی مذہبی تربیت گاہ (حوزہ) کی جانب سے سرکاری "اقامت" حاصل کرنے کے لیے خصوصی اور انتہائی پیچیدہ طریقہ کار سے گزرنا پڑتا ہے۔

قم شہر میں لبنانی کا یہ حلقہ اپنے مذہبی ادارے کے کاندھوں پر یا دینی مراکز کی جانب سے "ماہانہ وظیفوں" کی رقم پر گزر بسر کرتا ہے... جس کا مطلب ہے کہ ان کا معیار زندگی نچلی ترین سطح یا غریب "مسلمانوں" کی سطح پر ہوتا ہے۔

یہ مفلسی اور ناداری دینی علوم کے ان طلبہ کو لبنان میں اپنے یا اپنی بیویوں کے گھر والوں اور یا پھر دینی اور تنظیمی اداروں سے مالی مدد طلب کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ایسے میں ان کے سامنے حزب اللہ کے سوا کوئی آپشن نہیں ہوتا جو ان کی مالی اور معنوی مدد کرتی ہے اور اس کے بدلے انہیں غیرسرکاری طور پر ایرانی ولایت فقیہہ کے نظام کے ماتحت لے آتی ہے۔

دوسرا گروپ : یہ ایرانی جامعات کے وہ طلبہ ہیں جو ایرانی ریاست کی جانب سے عرب طلبہ اور غیرملکیوں کے لیے اسکالر شپ کے اس پروگرام سے مستفید ہوئے جو بڑی حد تک ایرانی انقلاب کے مزعومہ پاسداران کے زیرنگرانی رہتا ہے۔ لبنان کے "شيعہ" طلبہ کی پہلی کھیپ جو کہ 10 افراد پر مشتمل تھی شاہ ایران محمد رضا پہلوی کے دور کے آخری دو سالوں کے دوران تہران پہنچی تھی۔ انقلاب کے بعد غیر ملکی طلبہ کے لیے اعلی تعلیم کے شعبوں کو محدود کردیا گیا تاہم اس وقت کے وزیر تعلیم کے ساتھ طویل گفت وشنید کے بعد لبنانی طلبہ کو اس فیصلے سے مستثنی قرار دیا گیا۔

​بعد ازاں 1980ء کی دہائی کے وسط میں ایران کی اعلی تعلیم کی وزارت نے وزارت خارجہ کے تعاون اور پاسداران انقلاب کی نگرانی میں لبنان کے طلبہ کو کھینچ لانے کے لیے ایرانی جامعات میں ان کے لیے 100 اسکالر شپ دینے کا فیصلہ کیا۔ ان میں 10 نشستیں نبیہ بری کے زیرقیادت "امل موومنٹ" کے طلبہ اور 90 نشستیں "حزب اللہ" سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے لیے مختص کی گئیں۔ گزشتہ چار دہائیوں کے دوران ایران سے شعیہ لبنانیوں کو ملنے والی مجموعی اسکالر شپس کی تعداد 400 ہے جن میں 97.5 فی صد حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے طلبہ کا مقدر بنیں۔

ایران میں غیرملکی طالب علم کو کسی بھی قسم کی ملازمت کی اجازت نہیں بالخصوص سرکاری ادارے کے معاملے میں یہ شرط اور زیادہ کڑی ہوجاتی ہے۔ اگر کوئی طالب علم اپنی مادی حالت بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے یا اعلی تعلیم کی وزارت کی جانب سے اسکالر شت کے تحت ماہانہ رقم ( جو کسی بھی صورت میں 50 ڈالر سے زیادہ نہیں ہوتی) کے علاوہ اضافی آمدنی چاہتا ہے ... تو ایسے طالب علم کو وزارت تعلیم میں طلب کرکے بلیک میلنگ کا آپشن سامنے رکھا جاتا ہے جس کے تحت وہ سیکورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کے سلسلے میں کسی بھی سرکاری یا غیر سرکاری سیکٹر میں ذمہ داری انجام دینے پر غور کرے یا پھر اس کو طالب علم پرمٹ منسوخ کرکے نیا ورک پرمٹ نکلوانے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ ساتھ ہی سیکورٹی اداروں کی جانب سے مستقل طور پر پوچھ گچھ اور پرمٹ کی تجدید میں ٹال مٹول کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ایران میں نجی لبنانی تجارتی کمپنیاں قریبا ناپید ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی بھی کمپنی کو قائم کرتے وقت اس کے مالک کو کسی ایرانی شہری کو اپنا شراکت دار بنانا ہوگا اور اس کے 51 فی صد حصص ہوں گے۔ اس کے علاوہ سرکاری رجسٹریشن کے عمل میں بھاری ٹیکسوں کا نفاذ بھی ہوتا ہے۔ ایران میں کام کرنے والی ایسی کوئی لبنانی کمپنی نہیں ملے گی جو حزب اللہ تنظیم سے یا اس تنظیم کے نزدیک کسی شخصیت سے وابستگی نہ رکھتی ہو... اور اس کا ایرانی شراکت دار پاسداران انقلاب کے اہل کار یا افسران کے حلقے میں سے نہ ہو۔

تیسرا گروپ : یہ وہ لبنانی ہیں جو حزب اللہ کے دائرہ کار سے خارج ہیں۔ یہ گروپ لبنان میں مسیحی اور اسلامی فرقوں سے تعلق رکھنے والے انجینئروں، ماہرین اور تکنیک کاروں پر مشتمل ہے۔ تاہم ان کا ایران میں داخلہ براہ راست شکل میں نہیں بلکہ بین الاقوامی یورپی کمپنیوں مثلا سیمنز اور ایرکسن وغیرہ اور ان کے علاوہ دیگر تیل اور مشاورت کی کمپنیوں سے وابستگی کے ذریعے ممکن ہوا۔ ان افراد کی مجموعی تعداد کسی طور بھی 100 سے زیادہ نہیں۔

یہ ہے روزگاری کی وہ ایرانی منڈی جس کی نوید خلیجی ممالک کی منڈیوں کے متبادل کے طور پر سنائی جارہی ہے۔ یہ منڈی بحرانوں کی بھرمار سے دوچار ہے۔ نئی حکومت کو اس سلسلے میں کڑے چیلنج درپیش ہوں گے۔ ایرانی نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 40 فی صد کی خوف ناک سطح کو چھو رہی ہے جب کہ اقتصادی بحران حکومت کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ اس کے حل کے لیے ہنگامی منصوبے وضع کرسکے۔ اس کے علاوہ تجارتی سیکٹر اور غیرملکی کمپنیوں کے قیام سے متعلق ایرانی قوانین کو ابھی تک شک اور سازش کی نظر سے دیکھا جارہا ہے... اور اس پر وسیع نظرثانی کی ضرورت ہے تاکہ بیرون کے لیے کھلی اقتصادی پالیسی کو ممکن بنایا جاسکے۔

یہ ہے آپ کا ایران جس کی آپ کو خوشخبری سنائی جارہی ہے۔ خدارا ! اللہ کے بندوں کو چھوڑ دیں تاکہ وہ عزت کے ساتھ اپنی روزی تلاش کریں... ان کو سیاسی تنازعات اور مذہبی سوداگری کی منڈی کا سامان نہ بنائیں۔ لبنانیوں کو دوسروں کے قصور کا ذمہ دار نہ بنایا جائے... اس قاعدے کے تحت کہ "اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا"۔