.

بن لادن کا بیوی کے دانت میں آلہ تعاقب کا اندیشہ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ تنظیم کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کے ایک ذاتی خط میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ بن لادن کو یہ شبہہ تھا کہ ان کی بیوی کے منہ میں لگائے جانے والے دانت میں کھوج لگانے والی الیکٹرونک چپ موجود ہے۔

یہ خط منگل کے روز امریکی نیشنل انٹیلجنس بیورو کی جانب سے پیش کیے جانے والے ان دستاویزات میں سے ہے جو 2011 میں بن لادن کو قتل کرنے کے آپریشن کے بعد امریکا کے ہاتھ آئے۔ منظرعام پر لائے جانے والی اس دوسری کھیپ میں القاعدہ کے بانی کی وصیت سمیت 113 دستاویزات شامل ہیں۔

اسامہ بن لادن کی جانب سے اپنی بیوی کو لکھے جانے والے خط میں انہوں نے کہا کہ "ہم جانتے ہیں کہ تم نے ایران میں باقاعدہ طور پر دانتوں کی ڈاکٹر کے پاس دورہ کیا تھا اور اس ڈاکٹر نے تمہارے دانت میں بھرائی کی تھی۔ کیا ہی اچھا ہو اگر تم مجھے ایران کے کسی بھی ہسپتال میں کسی بھی مشکوک بات کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کر دو یا اس بارے میں کہ انہوں نے کسی بھی طریقے سے کوئی آلہ لگا دیا ہو"۔

بن لادن نے جنہوں نے مؤرخہ 28 محرم 1432 ہجری کے اس خط میں دستخط کی جگہ ابو عبداللہ کی کنیت استعمال کی.. انہوں نے لکھا کہ " اس طریقہ کار میں سرنج کا حجم نارمل ہوتا ہے جب کہ اس کا سر نارمل حجم سے تھوڑا بڑا ہوتا ہے۔ اس طرح وہ اس کے اندر چھوٹا سا آلہ رکھ کر جلد کے نیچے نصب کر دیتے ہیں.. اس آلے کی لمبائی گندم کے دانے کے برابر اور قطر جو کے دانے کے برابر ہوتا ہے"۔

دستاویز میں ایک تحریری وصیت بھی شامل ہے جس کے بارے میں فرض کیا جا رہا ہے کہ یہ بن لادن کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے۔ اس میں القاعدہ سربراہ نے سوڈان میں موجود تقریبا 2 کروڑ90 لاکھ ڈالر کی رقم "اللہ تعالیٰ کے راستے میں قتال" کے لیے مختص کرنے کی ہدایت کی۔

یاد رہے کہ یکم مئی 2011 کو امریکی صدر باراک اوباما کے احکامات پر امریکی بحریہ انٹیلجنس کے 6 افسران نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک رہائشی کمپاؤنڈ پر اتر کر القاعدہ سربراہ کے قتل کا آپریشن کیا تھا۔