.

الجیرین بھکاری کی آمدن رکن پارلیمنٹ کی تنخواہ کے برابر!

سُوٹڈ بُوٹڈ بھکاری یومیہ تین سے آٹھ ہزار دینار جمع کر لیتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ذرا گمان کیجیئے! آپ کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہو جس نے گراں قیمت تھری پیس سُوٹ زیب تن کر رکھا ہو۔ کپڑوں پر چھڑکی گراں قیمت عطریات کی بھینی بھینی خوشبو ہر ایک کو اس کی طرف متوجہ کرے، سرکے بال نہایت سلیقے سے سنوار کر تازہ تازہ شیو بنا رکھی ہو اور اچھے خاصے قیمتی جوتے پہن رکھے ہوں تو پہلی نظر میں آپ اسے کوئی امیر زادہ، کھاتے پیتے گھرانے کا چشم وچراغ، نیا نیولا دلہا یا کسی بڑے ادارے کے دفتر کا بابو ٹائپ افسر سمجھیں گے۔ مگر جب آپ کو پتا چلے کہ مذکورہ خصوصیات کا حامل شخص کوئی بھکاری ہے جو دن بھر اپنے پاس سے گذرنے والے کے سامنے جھولی پھیلاتا اور دست سوال دراز کرتا ہے تو آپ ایک لمحے کے لیے چونک جائیں گے۔

یہ محض ایک خیالی تصور نہیں بلکہ دنیا میں جہاں کروڑ پتی بھکاری موجود ہیں وہاں ایسے سوٹڈ بوڈٹ بابو ٹائپ بھکاری بھی ہیں جو اپنے اس پیشے سے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے افریقی ملک الجزائر کے ایسے ہی ایک بھکاری کا تذکرہ کیا ہے جس کے لباس اور چہرے کی وضع قطع کو دیکھیں تو وہ کسی بھی طو پر بھکاری نہیں لگتا مگروہ سال ہا سال سے یہ پیشہ اپنائے ہوئے ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ بھکاری کی یومیہ آمد الجزائر کے رکن پارلیمنٹ کی اجرت کے مساوی ہے۔ بعض اوقات رکن پارلیمنٹ کی اجرت سے بھی اس کی آمدن بڑھ جاتی ہے۔

دنیا کے منفرد بھکاری کو زیادہ تر الجزائر کی الحروش بلدیہ میں پوسٹ آفس کے قریب دیکھا جاتا ہے۔ واقفان حال کے لیے وہ نیا نہیں مگر نئے ملنے والے پہلی فرصت میں اس کےلباس، عطریات اور بناؤ سنگھار کو دیکھ کر حیران رہ جاتےہیں۔

اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بھکاری نے بتایا کہ معاشری نا ہمواریوں اور خرابی صحت نے اسے یہ پیشہ اختیار کرنے اور ایسا رنگ ڈھنگ اپنانے پر مجبور کیا۔ اس کا کہنا ہے کہ غربت اور معذوری کے باعث وہ تعلیم حاصل نہ کر سکا اور پیٹ پالنے کے لیے اس نے بھکاری بننے کا راستہ چنا۔

جب اس سے پوچھا گیا کہ وہ یومیہ کتنا کچھ کما لیتا ہے تو اس کا کہنا تھا کہ یومیہ کبھی تین ہزار، کبھی چھ اور کبھی آٹھ ہزار الجزائری دینار اس کی جیب میں آجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت اسے ماہانہ 18 ہزار دینا معذوری الاؤنس بھی دیتی ہے۔ یوں اس کی یومیہ آمدن آٹھ سے 10 ہزار دینار تک جا پہنچتی ہے جو الجزائر کے رکن پارلیمنٹ کی ایک دن کی تنخواہ کے برابر ہے۔

جب بھکاری سے پوچھا گیا کہ اگر حکومت آپ کے معذوری الاؤنس کی رقم دوگنا کر دے، آپ کو کوئی معقول ملازمت دے دی جائے جس کے ذریعے آپ اتنی رقم کما سکیں تو اس نے فورا انکار کیا اور کہا کہ حکومت مجھے ایسی کوئی ملازمت نہیں دے سکتی جس کے ذریعے میں اتنی رقم کما سکوں جتنی میں لوگوں سے مانگ کر کماتا ہوں۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ سوسائٹی میں کون سا طبقہ اس کےساتھ زیادہ ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسے بھیک دیتا ہے تو اس نے جواب دیا’خواتین، صرف خواتین‘۔