.

شام: ایرانی فوجی اور 6 پاکستانیوں کی ہلاکت کا انکشاف

زینبیون ملیشیا کے پاکستانی جنگجو 'قم' کے قبرستان میں سپرد خاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران پاسداران انقلاب کے ایک اعلی افسر سمیت زینبیون ملیشیا میں شامل چھ پاکستانی جنگجو گزشتہ ہفتے شامی اپوزیشن کے ساتھ شمالی حلب میں ہونے والی لڑائی میں ہلاک ہوئے ہیں۔

ایران کی 'مھر' نیوز ایجنسی کے مطابق پاسداران انقلاب کے مھدی ثامنی راد نامی افسر فروری کے مہینے میں حلب کے مضافات میں ہوئی والی لڑائی میں ہلاک ہوئے۔ خبر رساں ادارے نے دعوی کیا ہے کہ مقتول عہدیدار کی لاش ابھی تک ایران واپس نہیں پہنچائی جا سکی۔

ادھر ایرانی خبر رساں اداروں نے پاکستانی اہل تشیع پر مشتمل 'زیبنیون' ملیشیا کے چھ کارکنوں کے جنازے کی تصاویر پر مبنی رپورٹس شائع کی ہیں۔ زینبیون ملیشیا کو پاسداران انقلاب، ایران نواز پاکستانی اہل تشیع کی صفوں میں سے بھرتی کرتے ہیں جو شام میں جا کر بشار الاسد کی فوج کے شانہ بشانہ اپوزیشن کے خلاف لڑائی میں حصہ لیتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس طرح شام جانے والے پاکستانی اہل تشیع کی تعداد چھ سو تک پہنچ چکی ہے۔

شام میں ہلاک ہونے والے پاکستانیوں کو بدھ کے روز ایران کے شہر قم میں بنائے گئے خصوصی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ یہ قبرستان ان افراد کے لئے مخصوص ہے کہ جو شام میں بشار الاسد کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان گنوا دیتے ہیں۔ مرنے والے پاکستانیوں کی شناخت عزیز علی شیخ، سید امام نقی، سھیل عباس، الطاف حسین، انتظار حسین اور فرزند علی کے ناموں سے کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ ایران نے گزشتہ ہفتے امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے ایک بیان کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ تہران نے شام سے اپنی فوج نہیں نکالی۔ جان کیری نے ایک بیان میں دعوی کیا تھا کہ ایران نے شام میں لڑنے والے پاسداران انقلاب کے اہلکاروں کی تعداد میں کمی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان حسین جابری انصاری نے گزشتہ سوموار ایک نیوز کانفرنس کو بتایا کہ شام میں ہمارے فوجی مشیران کی موجودگی کا براہ راست تعلق صدر بشار الاسد کی خوشنودی اور شام کے مخصوص کشیدہ حالات سے ہے۔ انہوں نے یہ بات زور دیکر کہی کہ شام میں ایران کا عسکری وجود شامی حکومت کی درخواست کا مرہون منت ہے۔