.

ناوروے : تنہا قید پر مجرم کا ریاست کے خلاف مقدمہ !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے !... یہ مشہور مثل آپ نے بہت مرتبہ سنی ہوگی۔ کچھ اسی طرح کی صورت حال ناروے میں بھی دیکھنے میں آئی ہے جہاں تقریبا 6 درجن سے زیادہ افراد کے قاتل اینڈرز بریوک کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مؤکل کی تنہائی کی قید ختم کرنے کی درخواست کے لیے انسانی حقوق کی یورپی عدالت کا رخ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بریوک نے 2011 میں 77 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا تھا جن میں زیادہ تر جواں سال نوجوان تھے۔

اینڈرز بریوک کو انتہائی سخت پہرے کے ساتھ انفرادی طور پر ایک جیل میں حراست میں رکھا گیا ہے۔ تاہم لگتا ہے کہ بریوک تنہائی اور سکون سے تنگ آچکا ہے اسی لیے اس نے ریاست (ناروے) کے خلاف عدالتی کارروائی کا فیصلہ کیا ہے ساتھ ہی اس نے الزام لگایا ہے کہ ریاست اس کے ساتھ "غیر انسانی" اور "ہتک آمیز" معاملہ کر رہی ہے جو انسانی حقوق کے یورپی میثاق کی خلاف ورزی ہے۔

اینڈرز کے وکیل اوشٹائن اسٹورویک نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ "اگر ہم مجبور ہوئے تو پھر کیس کو انسانی حقوق کی یورپی عدالت میں اٹھائیں گے... انفرادی قید نے اینڈرز کی نفسیاتی حالت کو نقصان پہنچایا ہے"۔ (گویا کہ 77 انسانوں کی جان لیتے وقت مجرم کی نفسیاتی حالت درست تھی!)۔

بدھ کے روز اوسلو کی عدالت میں پیش کیے گئے دستاویزات میں اٹارنی جنرل کے بیورو (جو کیس میں ریاست کا دفاع کررہا ہے) کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ بریوک کے جیل کی صورت حال "میثاق میں متعین کردہ ان حدود کے اندر ہے جن کی اجازت دی گئی ہے"۔

آیے ایک نظر مدعی کو دی گئی شى "ناقص" سہولیات پر ڈالتے ہیں جن کے بعد بھی اسے تنہائی کاٹنے کو دوڑ رہی ہے۔ بریوک کو تین سیل (کوٹھڑیاں) استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ ان میں ایک رہنے کے لیے، دوسری پڑھائی کے لیے اور تیسری ورزش کے لیے۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کا سیل (کوٹھڑی) ٹیلی وژن، انٹرنیٹ کنکشن کے ساتھ کمپیوٹر اور وڈیو گیمز سے آراستہ ہے۔ علاوہ ازیں وہ اپنے لیے خود کھانا تیار کرسکتا ہے اور اپنے کپڑے بھی صاف کرسکتا ہے۔

اینڈرز بریوک کو کسی بھی دوسرے قیدی سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ بریوک کو یہ بھی شکایت ہے کہ جیل حکام اس کی ذاتی ای میلوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ پابندیاں بریوک کو کسی بھی "شدت پسند نیٹ ورک" بنانے سے روکنے کے لیے ضروری ہیں۔

یاد رہے کہ 22 جولائی 2011 کو اینڈرز بریوک نے اوسلو میں ایک سرکاری عمارت کے سامنے بم دھماکا کرکے 8 افراد کو ہلاک کردیا۔ اس کے بعد ناروے کے جزیرے یوٹویا میں لیبر پارٹی کے ایک کیمپ میں گھس کر اندھادھند فائرنگ کرکے 69 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

اگست 2012 میں اسے 21 سال قید کی سزا سنائی گئی جب کہ اگر یہ بریوک کو سماج کے لیے خطرہ سمجھا گیا تو اس مدت میں اضافہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

37 سالہ اینڈرز بریوک کے کیس کی سماعت 15 سے 18 مارچ کے دوران کی جائے گی۔