.

چچا بوفہد: روزانہ 400 روٹیاں پکانے والے سعودی نان بائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شہر الاحساء میں چچا بوفہد الربیع کا تندور کوئی غیر معروف جگہ نہیں۔ اس عوامی پیشے سے وابستہ آباؤاجداد کے دنیا سے رخصت ہو جانے اور غیرملکی لیبر کے کنٹرول کے باوجود چچا بوفہد گزشتہ 55 سال سے اس عوامی پیشے سے وابستہ ہیں۔

روزانہ سورج نکلنے کے وقت سے ہی کھجور کے تنوں سے دہکائے گئے زمینی تنور میں لال روٹی کی تیاری شروع ہو جاتی ہے اور یہ سلسلہ دوپہر تک جاری رہتا ہے۔ الاحساء کی کھجور ملی روٹی کی اشتہا انگیز خوشبو سے آس پاس سے گزرنے والوں کے منہ میں پانی بھر آتا ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی ٹیم نے کھجور کے درختوں کے بیچ چچا بوفہد کی دکان کا دورہ کیا تاکہ ان سے اس محنت طلب پیشے میں درپیش مشکلات پر صبر کا راز معلوم کیا جا سکے۔

چچا الربیع نے جو زندگی کی تقریبا 70 بہاریں دیکھ چکے ہیں بتایا کہ نان بائی کے اس پیشے میں آٹے کے پیڑے اور روٹی کی تیاری میں استعمال کے لیے بہترین کوالٹی کی کھجور کے چناؤ کا تجربہ بے حد ضروری ہے۔

ہمارے سامنے روٹی کی دیگر ذائقہ دار اقسام بھی آچکی ہیں جن میں پنیر والی روٹی اور جنگلی پودینے والی روٹی شامل ہیں.. تاہم ان کے باوجود الاحسائی لال روٹی کی چمک دمک ماند نہیں پڑی۔

چچا بوفہد نے نان بائی کا کام شروع کیا تو اس وقت ان کی عمر صرف 13 برس تھی جب کہ اس زمانے میں ایک روٹی 4 قروش (سعودی عرب کے 20 پیسے) میں فروخت ہوتی تھی۔ اس پیشے کو جاری رکھنے کی اصل وجہ چچا بوفہد کا اس کام سے عشق ہے.. یہاں تک کہ یہ مملکت کی سطح پر ہر ثقافتی میلے میں ان کی واضح پہچان بن چکا ہے۔

چچا بوفہد اس پیشے کو آئندہ نسلوں میں منقتل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں تاہم اس کی مشقت اور سخت گیری کی وجہ سے انہیں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔ چچا بوفہد کو سعودی نان بائیوں کے سلسلے کی آخری کڑیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔

گفتگو کے دوران ہر چند سیکنڈوں کے بعد چچا بوفہد کا ہاتھ تنور کے اندر چلا جاتا اور بڑی چستی کے ساتھ گرما گرم لال روٹی لے کر باہر آتا... وہ بنا کسی بیزاری کے دوپہر تک اسی طرح مشغول رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ روزی کمانے کا ایک خوبصورت ذریعہ ہے.. اور روزی کمانے کے لیے حرکت کرنا مثبت چیز ہے.. اس لیے حکام کو چاہیے کہ وہ اس پیشے کو سپورٹ کریں اس پر توجہ دیں اور موجودہ نسل کو اس کی تاریخ سے متعارف کرائیں۔