.

حزب اللہ عراقی ملیشیاؤں کو تربیت دے رہی ہے : سابق نائب صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک ایسے وقت میں جب کہ عراق میں بدعنوانی کے خلاف سیاسی اور عوامی دباؤ سنگین ہوتا جارہا ہے.. سابق نائب صدر اور پارلیمنٹ میں سب سے بڑے سنی بلاک کے سربراہ اسامہ النجیفی نے عراقی حکومت کی جانب سے تبدیلی کی بات کو "غیر حقیقی" قرار دیا ہے۔ روزنامہ الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ " کابینہ میں تبدیلی یا از سر نو ترتیب کا اعلان دراصل فرار کے ساتھ ساتھ فوائد پر جھپٹنے کی ایک کوشش اور وقت کے حصول کا بہانہ ہے.. اس کا حقیقی تبدیلی کرنے سے کوئی تعلق نہیں"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "وزیراعظم العبادی اپنے فیصلے میں خودمختار نہیں بلکہ اپنی جماعت اور قومی اتحاد جس نے انہیں اس منصب کے لیے نامزد کیا تھا ان کے فیصلے اور مخصوص بین الاقوامی طاقتوں کے دباؤ کے آگے جھکنے کے پابند ہیں"۔ النجیفی نے زور دے کر یہ بات بھی کہی کہ "موصل کو آزاد کرانے کی کارروائی میں پاپولر موبیلائزیشن (فورس) کی شرکت ریڈ لائن ہے"۔ انہوں نے "مسلح ملیشیاؤں کو تربیت دینے کے لیے عراق میں ایرانی پاسداران انقلاب کے افسران اور لبنانی تنظیم حزب اللہ کے عناصر کی موجودگی" کا بھی انکشاف کیا۔

پاپولر موبیلائزیشن کی جانب سے اغوا، قتل اور لوٹ مار کی کارروائیاں

اسامہ النجیفی کے مطابق پاپولر موبیلائزیشن کے بعض عناصر نے دہشت گردی کے خلاف حقیقی طور پر برسرجنگ ہوکر داعش تنظیم سے کئی علاقوں کو آزاد کرایا اور انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری کی.. جب کہ بعض عناصر نے سنی اکثریت کے شہروں مثلا بیجی، الدور، جرف الصخر، سلیمان بیک اور دیالیٰ صوبے کے دیگر علاقوں کو آزاد کرانے کے بعد جان بوجھ کر وہاں کا انفرا اسٹرکچر تباہ کردیا۔ ہم اپنے علاقوں کا یہ انجام نہیں چاہتے اور ان وجوہات کی بنا پر پاپولر موبیلائزیشن کی مداخلت کو مسترد کرتے ہیں۔

النجیفی کے مطابق دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ پاپولر موبیلائزیشن فورس جب کسی علاقے میں داخل ہوتی ہے تو وہاں سے سرکاری ادارے مثلا فوج، پولیس، لوکل گورنمنٹ اور صوبائی کونسل غائب ہوجاتے ہیں۔ جس کے بعد اغوا، قتل، لوٹ مار اور لوگوں سے پوچھ گچھ کی کارروائیاں شروع ہوجاتی ہیں۔ یہاں تک ان آزاد علاقوں کے رہنے والوں کے ساتھ بھی جنہوں نے داعش کے خلاف لڑائی میں پاپولر فورس کے ساتھ حصہ لیا تھا۔

اس دوران اسامہ النجیفی نے اس امر کی تصدیق کی کہ "پاپولر موبیلائزیشن فورس کو ایران کی سپورٹ اسی طرح حاصل ہے جس طرح اس نے کئی سالوں سے عراق میں مسلح ملیشیاؤں کی تشکیل میں حصہ لیا اور ملک کی داخلی صورت حال پر اس کا سیاسی اور سیکورٹی رسوخ ہے۔ ایران نے پاپولر موبیلائزیشن کے مخصوص گروپوں کو اسلحہ بھی فراہم کیا اور ایرانی فوجی مشیر بھی موجود ہیں۔ ایران نے دیالیٰ اور صلاح الدین صوبوں میں بعض لڑائیوں میں کسی نہ کسی صورت حصہ لیا تاہم ہمارے پاس عراق میں موجود ایرانی عسکری اہل کاروں کی تعداد اور بعض معرکوں کے انتظامی امور میں ان کے کردار سے متعلق معلومات نہیں ہیں۔ البتہ ایرانی پاسداران انقلاب اور لبنانی تنظیم حزب اللہ کے عناصر بعض عراقی گروپوں کی تربیت کی ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں اور وہ الانبار صوبے میں بھی موجود ہیں۔ کربلاء کے نزدیک واقع علاقے الرزازہ میں سیکورٹی خلاف ورزیاں بھی ہوئی ہیں.. جہاں 1600 کے قریب شہریوں کو اغوا کیا جاچکا ہے، یہ تمام افراد سامراء اور تکریت سے تعلق رکھنے والے سنی عرب تھے.. اور کسی کو بھی ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ ان تمام واقعات کی پہلی اور آخری ذمہ داری مسلح افواج کے کمانڈر جنرل پر عائد ہوتی ہے۔ اگرچہ پاپولر موبیلائزیشن فورس ان کے تحت ہو یا نہ ہو ہر صورت میں کمانڈر جنرل ہی ذمہ دار ہیں۔

بعض دیگر سیکورٹی خلاف ورزیاں ہیں جن کے ذمہ دار مسلح افواج کے کمانڈر جنرل ہیں.. نہیں تو ہم کچھ روز قبل داعش تنظیم کے بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے 8 کلومیٹر دور پہنچ جانے کو کس طرح بیان کریں گے؟ عراقی فوج، فیڈرل پولیس اور پاپولر موبیلائزیشن فورس کہاں ہیں جو دارالحکومت کے گرد دفاعی حصار بنا کر بیٹھی ہوئی ہیں !..