.

تہران اسٹیڈیم میں "فارسی بان مردہ باد" کے نعروں کی گونج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"فارسی بان مردہ باد"... یہ وہ نعرہ تھا جو تہران میں ملک کے سب سے بڑے "آزادی”اسٹیڈیم میں "PERSPOLIS" ٹیم کے خلاف فٹ بال میچ میں "TRAKTOR" کی فٹ بال ٹیم کے پرستاروں کی زبانوں پر تھا۔ "TRAKTOR" کی ٹیم یہ میچ کھیلنے ایرانی آذربائیجان کے شہر تبریز سے آئی تھی۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر زیرگردش وڈیو میں نعرے لگاتے تماشائیوں کو دیکھا جاسکتا ہے۔

یاد رہے کہ ترک اور آذربائیجانی زبانیں بولنے والوں کی اکثریت کے حامل ایرانی علاقوں کی آبادی تقریبا 2.5 کروڑ ہے.. اور یہ فارسی بانوں کے بعد ایران میں دوسری سب سے بڑی قومیت ہے۔ بعض رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ آبادی کے لحاظ سے ایران میں ان کی تعداد فارسی بانوں کے برابر ہے۔ ان کا تعلق شیعہ فرقے سے ہے تاہم قومیتی پہلو دیگر وابستگیوں پر غالب ہے۔ فارسی زبان کی ویب سائٹ "توانا" کے مطابق میچ کے دوران فریقین کے پرستاروں کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔

عرب اور ترک قوموں کی علامت دو ٹیمیں

ایران میں مختلف غیر فارسی قوموں کو اپنے خودمختار اداروں کے ذریعے حقوق پر عمل درامد کی ممانعت ہے۔ اس کے نتیجے میں فٹ بال میچ اور اسٹیڈیم قومیت پر مبنی جذبات کے اظہار کے اکھاڑے بن گئے ہیں جہاں بعض مرتبہ صورت حال کنٹرول سے باہر بھی ہوجاتی ہے۔

اس سلسلے میں "TRAKTOR" کی ٹیم کئی برسوں سے ترک آذربائیجانی قومیت کی علامت اور "FOOLAD FC " کی ٹیم عرب قومیت کی پہچان بن چکی ہے۔

ایران کی آبادی متعدد قومیتوں پر مشتمل ہے جن میں فارسی بان، ترک، کرد، عرب، بلوچ اور ترکمان وغیرہ شامل ہیں۔ بعض رپورٹوں کے مطابق ایران کی 8 کروڑ کے قریب آبادی میں غیر فارسی بان قومیتوں کی مجموعی شرح 60 فی صد ہے۔

اس سلسلے میں انسانی حقوق کی الاہوازی تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر کریم بنی سعید عبدیان کا کہنا ہے کہ "کسی بھی قومیت کے خلاف مردہ باد کا نعرہ لگانا ہر گز درست نہیں تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ ایران میں حکمرانی کرنے والی حکومتوں نے ایک ہی قوم کی زبان، ثقافت، تاریخ اور مسلک کو فروغ دیا اور وہ ہیں فارسی بان جس کی وجہ سے ایران کا تعارف صرف فارسی ملک کی حیثیت سے رہ گیا"۔