.

ویمن ڈے: داعش کی صفوں میں 31 ہزار حاملہ خواتین!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس زمانے میں خواتین کے استحصال کی مختلف صورتیں ہمارے سامنے ہیں.. اور شاید داعش تنظیم کے زیرکنٹرول علاقوں میں یہ صورت حال سب سے خطرناک ہے جہاں تنظیم اپنے مستقبل کے مقاصد پورا کرنے کے لیے عورت کے منظم استحصال کا سہارا لے رہی ہے۔

انتہاپسندی کے خلاف برسرجنگ برطانوی تھنک ٹینک ادارے QUILLIAM کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت داعش تنظیم کے زیر کنٹرول علاقوں میں 31 ہزار سے زیادہ حاملہ خواتین موجود ہیں۔

اتنی بڑی تعداد کا ہونا کوئی اتفاقی امر نہیں ہے بلکہ یہ داعش کی طویل المدت منصوبہ بندی کا حصہ ہے جس کا مقصد ان بچوں کو بچپن ہی سے شدت پسندی اور دہشت گردی کے ماحول میں تربیت دے کر مستقبل کے لیے تیار کیا جائے۔

اگرچہ دنیا میں آنے والے ان سب بچوں کے مقدر میں داعش کے اداروں میں تعلیم حاصل کرنا نہیں ہوگا.. رپورٹ کے مطابق ان میں لڑکیوں کو گھروں کے اندر ہی رہنا ہوگا جہاں وہ صرف شوہروں اور بچوں کی دیکھ بھال سیکھیں گی۔

اقوام متحدہ کے ذرائع کے مطابق داعش تنظیم سے تعلق رکھنے والے غیر ملکی جنجگوؤں میں خواتین کی شرح 30 فی صد ہے۔

اس کے علاوہ انٹرنیٹ پر داعش کی وفاداری کا حلف اٹھانے والی کم عمر لڑکیوں کی تعداد میں بھی بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔

دہشت گردی سے متعلق تحقیق کرنے والے لیبیا کے ایک مرکز کی جانب سے رواں ماہ کے آغاز پر جاری رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لیبیا میں داعش کے ارکان میں سے 3 فی صد وہ خواتین ہیں جن میں اکثریت پڑوسی ممالک مثلا تیونس، الجزائر، سوڈان، چاڈ اور مالی سے آئی ہے۔

عورتوں کے خلاف داعش کی صریح خلاف ورزیوں پر نظر ڈالی جائے تو تنظیم کی جانب سے اغوا اور عصمت دری کی ان کارروائیوں کا ذکر ناگزیر ہوجائے گا جن کا یزیدی خواتین کو اجتماعی شکل میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

2014 میں داعش کے ارکان نے 6255 یزیدی خواتین کو اغوا کیا تھا جن میں سے صرف 2417 خواتین ہی واپس لوٹ سکیں۔