.

داعش کی 22 ہزار فائلیں مصدقہ ہیں: جرمنی

عراق اور شام میں داعش میں برطانیہ اور امریکا سمیت 51 ممالک کے شہری شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کی وفاقی پولیس نے سخت گیر جنگجو گروپ داعش سے متعلق ایسی ہزاروں فائلیں حاصل کر لی ہیں جن کی مدد سے دوسرے ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کا سراغ لگایا جاسکتا ہے۔ان جنگجوؤں کی آبائی ممالک کو واپسی کی صورت میں ان کے خلاف مقدمے چلانے میں بھی ان فائلوں سے مدد لی جاسکتی ہے۔

جرمنی کی وفاقی پولیس کی جانب سے یہ اعلان برطانیہ کے ٹیلی ویژن چینل اسکائی نیوز کی اس رپورٹ کے بعد منظرعام پر آیا ہے جس میں اس نے داعش سے متعلق بائیس ہزار فائلیں حاصل کرنے کی اطلاع دی تھی۔ان میں جنگجوؤں کے اصل نام لکھے ہوئے ہیں۔ان کے آبائی ممالک کے نام ، ٹیلی فون نمبرز اور انھیں اسپانسر اور بھرتی کرنے والوں کے نام درج ہیں۔

جرمن روزنامے سودیوش زیتونگ اور نشریاتی اداروں وی ڈی آر اور این ڈی آر نے گذشتہ سوموار کو ایک مشترکہ رپورٹ میں بتایا تھا کہ انھوں نے داعش سے متعلق دستاویزات کے سیکڑوں صفحات حاصل کر لیے ہیں۔

کارنیگی مشرق وسطیٰ مرکز کی ایک تجزیہ کار ڈالیا غنم یزبیک کا کہنا ہے کہ ''یہ وسیع تر ڈیٹا ہے اور اس میں بائیس ہزار سے زیادہ نام ہیں۔اس لیے یہ ڈیٹا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ان فائلوں سے عرب اور دوسرے ممالک کے سکیورٹی اداروں کو داعش میں شامل ہونے والے جنگجوؤں کی شناخت میں مدد ملے گی''۔

اسکائی نیوز کا کہنا ہے کہ اس کو یہ فائلیں ترکی اور شام کے درمیان سرحد سے ملی تھیں۔یہ فائلیں داعش کی داخلی سکیورٹی کی ذمے دار پولیس کے سربراہ کے کمپیوٹر میں تھیں اور ان کو ایک میموری اسٹک میں محفوظ کیا گیا تھا۔یہ اسٹک داعش کے ایک سابقہ جنگجو نے چوری کی تھی۔

جرمن اخبار اور نشریاتی ادارے نے بھی کہا ہے کہ انھیں یہ فائلیں ترکی اور شام کے درمیان سرحدی علاقے سے ملی تھیں۔وہاں ان کے بہ قول داعش کی فائلیں اور ویڈیوز کرد جنگجوؤں اور خود داعش سے منحرف ہونے والے جنگجوؤں کے پاس سے بآسانی مل سکتی ہیں۔

امریکا کی قیادت میں اتحاد کے ترجمان کرنل اسٹیو وارن کا کہنا ہے کہ ''ان معلومات سے اتحاد کو غیر ملکی جنگجوؤں کے نیٹ ورکس کے خلاف کریک ڈاؤن میں مدد مل سکتی ہے''۔تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ ان دستاویزات کی تصدیق نہیں کرسکتے ہیں۔اگر کوئی میڈیا ادارہ داعش کے جنگجوؤں کے ناموں اور ان کے نمبرز کو شائع کرے تو اس سے ان کا سراغ لگانے میں مدد مل سکتی ہے''۔

اسکائی نیوز اور سودیوش زیتونگ کی رپورٹ کے مطابق یہ دستاویزات فارموں کی شکل میں ہیں۔ایک فارم 23 سوالات پر مشتمل ہے۔یہ فارم داعش میں شامل ہونے والے جنگجوؤں سے پُر کروائے جاتے تھے۔اسکائی نیوز کا کہنا تھا کہ داعش میں امریکا اور برطانیہ سمیت اکاون ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجو شامل ہیں۔