.

8واں بیٹا بھی فوج میں جائے گا : اماراتی ماں کا اصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ماؤں کی فطرت ہوتی ہے کہ وہ اپنے لعل (بیٹے) کو خود سے دور نہیں دیکھنا چاہتی ہیں مگر بعض مائیں دینی حمیت یا جذبہ حب الوطنی سے اتنی سرشار ہوتی ہیں کہ ان مقاصد پر ایک تو کیا کئی بیٹے قربان کرنے کو تیار رہتی ہیں۔

ابوظبی کے ولی عہد اور مسلح افواج کے نائب سپریم کمانڈر الشیخ محمد بن زاید نے بھی منگل کے روز ایسی ہی ایک ماں سے ملاقات کی جس کے سات بیٹے پہلے ہی ملک سے باہر اپنی فوجی ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں اور اب وہ اپنے آٹھویں بیٹے کو بھی اماراتی مسلح افواج میں بھرتی کرانا چاہتی ہے۔

اماراتی ویب سائٹوں کے مطابق آمنہ سالم المراشدہ نامی خاتون کے سات فوجی بیٹوں میں سے اس وقت 6 یمن میں اور ساتواں صومالیہ میں اپنے قومی فریضے کی انجام دہی میں مصروف ہیں۔

ماں کی خواہش پر آٹھویں بیٹے نے بھی اپنے بھائیوں کے نقش قدم پر چلنے کے لیے یمن میں اماراتی افواج میں شمولیت کے سلسلے میں درخواست دی تاہم پہلے ہی اس خاندان کے افراد کی ایک بڑی تعداد کے فوج سے منسلک ہونے کی وجہ سے حکام نے مذکورہ نوجوان کی درخواست مسترد کردی تاکہ وہ گھریلو امور اور اپنی سن رسیدہ ماں کا خیال رکھ سکے۔

بیٹے کی درخواست مسترد ہونے پر ماں نے خود جا کر درخواست قبول کیے جانے کا مطالبہ کیا تاہم جنرل کمان نے اظہار تشکر کے ساتھ درخواست قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اماراتی ماں نے باور کرا دیا کہ وہ اب الشیخ محمد بن زاید سے خود رابطہ کرے گی جس پر معاملے کو آگے پہنچانا ناگزیر ہوگیا۔ قصہ ابوظبی کے ولی عہد تک پہنچا تو وہ فورا شارقہ کی امارت روانہ ہوگئے جہاں انہوں نے مرحوم حمید النہم کی بیوہ سے ملاقات کی اور حب الوطنی کا عظیم سبق پیش کرنے پر خاتون کو خراج تحسین پیش کیا۔

اماراتی خبررساں ایجنسی (وام) کے مطابق الشیخ محمد کا کہنا تھا کہ "جب بھی امارات میں ہماری مائیں تربیت، قربانی، ایثار اور اخلاص کا عظیم سبق پیش کرتی ہیں تو الفاظ ان مواقف اور جذبوں کو شایان شان طریقے سے بیان کرنے سے قاصر رہتے ہیں"۔

انہوں نے باور کرایا کہ محترمہ آمنہ المراشدہ کا موقف فخر و اعزاز کا ایسا تمغہ ہے جو ہم سب اپنے سینوں پر سجانا چاہیں گے۔