.

شیشہ ہو یا بندوق کی گولی.. مصری جوان کے لیے سب برابر!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کا 38 سالہ کریم عبدالفضیل حسین یقینی طور پر ایک مافوق الفطرت انسان ہے.. وہ جو کچھ کرتا ہے اسے بیان کرنا محال ہے جب کہ انسانی عقل بھی اس کا یقین کرنے میں مشکل میں پڑ جاتی ہے۔

کریم مصر کے صوبے اسیوط میں پیدا ہوا اور اس کا تعلق الہلایل کے قبیلے سے ہے۔ یہ قبیلہ طاقت کے حوالے سے مشہور ہے اور معروف عرب لوک رزمیہ کلام "سیرت بنی ہلال" کے ہیرو ابو زید الہلالی کا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے۔

کریم کی مافوق الفطرت عادات کا انکشاف آٹھ برس کی عمر میں ہوا جب وہ شیشے اور بلیڈوں کو شکر کی میٹھی گولی کی طرح کھا جاتا تھا۔ کچا گوشت اس کی مرغوب ترین خوراک ہے جب کہ وہ چوبیس گھنٹوں میں کسی بھی وقت نہیں سوتا۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کریم نے بتایا کہ جب سے اس نے آنکھ کھولی ہے کبھی محو خواب ہونے کا مزہ نہیں چکھا۔ تاہم وہ کچھ دیر کے لیے آرام ضرور کرتا ہے اور اس دوران اس کی پلکیں بند نہیں ہوتیں۔ ان سب باتوں سے ہٹ کر سب سے حیران کن امر یہ ہے کہ اگر کریم پر گولیاں برسائیں جائیں تو اس کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوتی.. اس کے علاوہ آگ اس کے جسم کو نہیں جلاتی ہے ۔

​مصری جوان کریم جو "کریم فرعون" کے نام سے مشہور ہے.. اس کا کہنا ہے کہ آٹھ برس کی عمر میں وہ ایک روز لسی پی رہا تھا کہ اچانک محسوس ہوا کہ شیشے کا گلاس اس کے ہاتھ میں ٹوٹ گیا جس پر اس نے نہ صرف یہ کہ شیشے کو کھالیا بلکہ اس کی لذت کریم کو شیرینی کی طرح محسوس ہوئی۔ اس کے بعد اس نے محسوس کیا کہ پکے ہوئے گوشت کی نسبت اس کو کچا گوشت زیادہ مرغوب لگتا ہے۔ اس نے یہ بھی نوٹ کیا کہ وہ سوتا نہیں ہے اور بنا کسی تھکن کے مسلسل جاگتا رہتا ہے۔ ایک مرتبہ اس کے ہاتھ پر چھری گر گئی تو اس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا جس پر اس نے ایک چاقو لے کر خود کو گھونپنے کی کوشش کی تو اس کو کوئی تکلیف ہی محسوس نہ ہوئی۔ ایک مرتبہ سلائی کی سوئی لے کر اپنی گردن میں داخل کی تو وہ آر پار ہو کر دوسری جانب سے نکل آئی جب کہ خون کا ایک قطرہ بھی نہیں ٹپکا۔

کریم نے اپنی اس غیرمعمولی صورت حال کے حوالے سے ڈاکٹروں سے رابطہ کیا تو مکمل چیک اپ اور کئی ٹیسٹوں کے بعد ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ.. کریم کے 2 دل 2 جگر اور 4 گردے ہیں.. اور اس کا دماغ عام انسانی دماغ کی طرح نہیں بلکہ گانٹھ دار شاخوں کا پیچیدہ مرکب ہے۔ ڈاکٹروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کی کھال کی موٹائی اس نوعیت کی ہے جس پر گولیاں اثر انداز نہیں ہوسکتیں.. ساتھ ہی کریم کو یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کی انسانی طاقت 360 گھوڑوں کے برابر ہے۔

کریم نے اپنی مافوق الفطرت طاقت کے اظہار کے لیے متعدد دلچسپ مشاغل اپنا رکھے ہیں۔ پہلے اس نے اپنے دائیں یا بائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی سے بھاری گاڑیوں کو کھینچ کر دکھایا اور پھر

اپنے دانتوں سے کھینچنے کا مظاہرہ کیا۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی کیمرہ ٹیم کے سامنے کریم نے بہت سے مشاغل کا مظاہرہ کیا جن میں شیشوں اور بلیڈوں کو کھانا، بکھری ہوئی کرچیوں سے منہ کو دھونا، شیشوں کے ٹکڑوں پر سونا شامل ہیں۔ کریم نے تین طاقت ور آدمیوں کو اپنے اوپر کھڑا کرکے خود کو خنجر گھونپا مگر اس کو کوئی نقصان نہ پہنچا بلکہ چھرا ہی مڑ گیا۔ اس کے بعد ایک آدمی نے کریم کے سینے پر 60 کلوگرام وزن کا پتھر رکھ کر توڑا جب کہ کریم شیشوں پر لیٹا ہوا تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کریم کے چاروں بچوں (3 بیٹے اور 1 بیٹی) نے بھی موروثی طور پر اپنے باپ کی طاقت حاصل کی ہے۔ یہ بچے شیشے کی کرچیوں پر سوجاتے ہیں اس دوران ان پر کوئی گرے بھی تو کوئی اثر نہیں ہوتا۔ کریم کا ارادہ تھا کہ وہ اپنے بچوں کی طاقت دکھانے کے لیے ان کو ایک عمارت کی چھٹی منزل سے نیچے پھینکنے کا مظاہرہ کرے گا تاہم "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی ٹیم نے اس کو ایسا کرنے سے روک دیا۔

کریم کی خواہش ہے کہ وہ مصری حکام یا نوجوانوں کے وزیر سے ملاقات کرکے ان سے مطالبہ کرے گا کہ اس کی مافوق الفطرت صلاحیتوں سے ملک کے لیے کسی طور فائدہ اٹھایا جائے۔

کریم کا کہنا ہے کہ وہ ایسے افراد کے لیے میلے منعقد کرنے کے لیے تیار ہے جو اس کی غیرمعمولی طاقت کو دیکھنے کے خواہش مند ہیں.. ان میلوں سے حاصل ہونے والی آمدنی وہ اپنے ملک کے لیے عطیہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ کریم فلمی صنعت اور اشتہاروں میں کام کرنے کا بھی خواہش مند ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر موقع دیا گیا تو وہ مصر اور عرب دنیا میں ایکشن فلموں کا ستارہ ثابت ہوگا۔