.

فلائی دبئی کے پائیلٹوں کے ''آخری الفاظ'' کیا تھے؟

آخری پرواز پر جانے والا قبرصی پائیلٹ دنیا سے آخری سفر پر روانہ ہوگیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے جنوبی شہر روستوف آن ڈان میں ہوائی اڈے پر اترتے ہوئے گر کر تباہ ہونے والے فلائی دبئی کے مسافر طیارے کے ہوابازوں اور ائیر کنٹرول روم کے درمیان گفتگو کی تفصیل منظر عام آئی ہے۔اس گفتگو میں پائیلٹ موسم کی صورت حال کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔انھوں نے موسمی صورت حال پر تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔

سات منٹ کی اس ریکارڈنگ میں ایک پائیلٹ کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ کیا موسم بہتر ہے؟اس وقت وہ روستوف آن ڈان کے ہوائی اڈے پر اُترنے کے لیے قریب پہنچ چکے تھے۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق دبئی کی فضائی کمپنی کی پرواز ایف زیڈ 981 روس کے دارالحکومت ماسکو سے 950 کلومیٹر جنوب میں واقع شہر روستوف آن ڈان کے ہوائی اڈے پر اترتے ہوئے گر کر تباہ ہوگئی تھی۔اس افسوس ناک حادثے میں چار بچوں سمیت باسٹھ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کو قبرصی پائیلٹ ارسطو سقراط اڑا رہے تھے اور ان کے معاون پائیلٹ ہسپانوی شہری الژندرو الواز کروز تھے۔روس کی تحقیقاتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ وہ ہوا بازوں یا فنی خرابی کے حادثے میں امکان کا جائزہ لے رہی ہے۔اس کے بہ قول زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ یہ طیارہ ہوابازوں کی غلطی یا فنی خرابی کی وجہ سے تباہ ہوا تھا۔

روسی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''بوئنگ 737-800 کو ابتدائی کوشش پر نہیں اترنا چاہیے تھا اور اس کے لیے دوبارہ کوشش کرنی چاہیے تھی''۔پائلٹوں کو مبینہ طور پر خراب موسم کی وجہ سے رن وے نظر نہیں آیا تھا اور اس نے اس سے پیچھے ہی طیارہ کو اتار دیا تھا۔

پائیلٹ ریکارڈنگ میں ائیر ٹریفک کنٹرولروں کے ساتھ مبینہ گفتگو میں بار بار موسمی حالت اور اترنے کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔اس وقت وہ پانچ کلومیٹر کے دائرے میں تھے۔برطانوی اخبار ڈیلی میل کو ملنے والی اس گفتگو میں پائیلٹ زمین پر ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں بھی پوچھ رہے ہیں۔یہ گفتگو روسی اور انگریزی زبان میں ہورہی تھی۔

روس کے علاقے روستوف کے گورنر ایلسی گولوبیف نے اطلاع دی تھی کہ ''طیارہ رن وے سے آٹھ سو فٹ دور گر کر تباہ ہوا تھا۔بظاہر حادثہ تیز رفتار آندھی کی وجہ سے پیش آیا تھا اور یہ طوفان کی طرح تھی''۔

حادثے کے بعد فلائی دبئی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) غیث آل غیث نے عملے اور مسافروں کے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ہم حادثے کے سبب کی تمام تفصیل سے آگاہ نہیں ہیں اور اس سلسلے میں حکام سے رابطے میں ہیں۔

فلائی دبئی ایک ہفتے میں چودہ سو سے زیادہ پروازیں چلاتی ہے،اس کے طیاروں میں زیادہ تر بوئنگ 737-800 شامل ہیں۔روسی سیاحوں کی کثیر تعداد سیر وتفریح کے لیے دبئی آتی ہے اور اس کے پیش نظر اس فضائی کمپنی نے روس اور سابق سوویت یونین کی دوسری ریاستوں میں اپنی پروازوں کی تعداد کو بھی بڑھا دیا ہے۔

آخری پرواز

فلائی دبئی کے افسوس ناک حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے پائیلٹ ارسطو سقراط کی یہ آخری پرواز تھی مگر اللہ کو کچھ اور منظور تھا اور وہ دنیا سے اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگئے۔

سینتیس سالہ ارسطو سقراط اس پرواز سے واپسی کے بعد اپنے آبائی ملک قبرص جانے والے تھے جہاں انھوں نے کچھ ایام اپنی حاملہ بیوی کے ساتھ گزارنے تھے اور اس کے بعد آئیرلینڈ میں اپنی نئی ملازمت کے سفر پر روانہ ہوجانا تھا۔

قبرص کے روزنامے سائپرس میل میں ہفتے کے روز شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ارسطو سقراط فلائی دبئی کی پرواز کو آخری مرتبہ اڑا رہے تھے۔ان کا آئیرلینڈ کی فضائی کمپنی ریان ائیر سے معاہدہ ہوچکا تھا اور اس پرواز سے واپسی کے بعد انھوں نے نئی ملازمت کے لیے چلے جانا تھا۔

اخبار کے مطابق آنجہانی پائیلٹ فلائی دبئی میں ملازمت سے پہلے قبرص کی فضائی کمپنی ہیلیو ائیرویز کے پائیلٹ تھے۔اس کمپنی کو سنہ 2005ء میں بوئنگ 737 طیارے کے حادثے کے بعد بند کردیا گیا تھا۔یہ طیارہ قبرص کے ساحلی شہرلارناکا سے یونان کے دارالحکومت ایتھنز جاتے ہوئے گر کر تباہ ہوگیا تھا اور اس میں سوار تمام 121 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

درایں اثناء قبرص کے صدر نیکوس اناستیسیادیس نے پائیلٹ کے خاندان اور حادثے میں مرنے والے دوسرے افراد کے خاندانوں،روسی عوام اور حکومت کے ساتھ گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور ان سے دکھ اور مصیبت کی اس گھڑی میں ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔