.

لبنان میں شامی بچے خریدنے والے امریکی صحافی کی کہانی !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صحافی "فرینکلن لیمب" کا ایک مضمون 15 مارچ کو انٹرنیٹ پر ایک ویب سائٹ نے شایع کیا جس کا عنوان تھا "میں نے 4 شامی بچے خریدے".. مغربی ویب سائٹوں پر یہ مضمون تیزی سے گردش میں آگیا جس میں مذکورہ صحافی نے لبنان میں شامی بچوں کی خریداری کی کہانی بیان کی ہے۔

فرینکلن لیمب کے مطابق لبنان میں کام کے سلسلے میں قیام کے دوران اس نے الرملہ البیضاء کے ساحل کے قریب 4 شامی بچوں کو 600 امریکی ڈالر میں خریدا۔ مضمون نگار کا کہنا ہے کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ آیا جس خاتون سے انہوں نے یہ بچے خریدے اس کی کہانی سچی تھی یا وہ انسانوں کی تجارت میں ملوث گروہوں کی رکن تھی.. وہ گروہ جو ان دنوں لبنان میں وسیع پیمانے پر کام کررہے ہیں۔

خاتون کے بارے میں لیمب کا کہنا ہے کہ اس نے یہ بتایا کہ وہ حلب میں ان بچوں کے گھر کے پڑوس میں رہتی تھی۔ بمباری کے نتیجے میں ان کے گھر والے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور اس خاتون نے بچوں کو بچایا۔ "ان میں پانچ برس کی دو جڑواں بچیاں ہیں.. ایک سال اور چند ماہ کا ایک بچہ ہے اور سب سے بڑا بھائی آٹھ برس کا ہے"۔

لیمب نے خاتون کے ساتھ اپنی گفتگو کی تمام تر تفصیلات کو تحریر کرنے کی کوشش کی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ اس خاتون نے پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے کمیشن میں اندراج بھی نہیں کرایا کیوں کہ وہ لبنان میں غیر قانونی طور پر مقیم تھی۔ وہ بچوں کی دیکھ بھال نہیں کرسکتی تھی.. ساتھ ہی اس کا کہنا تھا کہ وہ انہیں دربدر کی ٹھوکریں کھانے کے لیے سڑک پر نہیں چھوڑ سکتی۔ خاتون نے لیمب کو پیش کش کی کہ وہ چاروں بچوں کو 1000 ڈالر کے عوض دے سکتی ہے یا پھر وہ ان میں سے کسی بھی ایک بچے کو 250 ڈالر کے عوض خرید لے۔

جھٹکا

مضمون نگار کا کہنا ہے کہ خاتون کی اس پیش کش کو سن کر اسے شدید جھٹکا لگا اور اس نے قدرے بیزاری سے جواب دیا "بس.. کافی ہے"۔ لیمب نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو بچوں کو بہت سہما ہوا پایا۔ وہ سردی اور بارش سے کانپ رہے تھے اور بھوکے بھی لگ رہے تھے۔ لیمب نے بنا کچھ سوچے تمام بچوں کی قیمت 600 ڈالر لگا دی۔ عورت نے پیش کش قبول کرتے ہوئے کہا کہ وہ یونان کے جزیرے لبوس پہنچنے کے لیے ترکی جانا چاہتی ہے۔

المیہ

مضمون نگار کے مطابق اس عورت نے بچوں کے عوض ملنے والی رقم لبنانی کرنسی میں نہیں بلکہ امریکی ڈالر میں لینے پر اصرار کیا۔ لیمب شامیوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار سے اچھی طرح واقف تھا۔ شام میں کم از کم 1 کروڑ 40 لاکھ افراد فوری طور پر انسانی امداد کے منتظر ہیں.. ان میں آدھے سے زیادہ بچے ہیں۔

لیمب کے مطابق "ہم میں سے اکثر یہ بات جانتے ہیں کہ لبنانی سرحد پار کرکے صرف ایک گھنٹے کی مسافت پر شامی علاقوں کو کس طرح کی ہیبت ناک صورت حال کا سامنا ہے۔ مضایا اور الزبدانی جیسے علاقے جہاں محاصرے میں گھرے بچے بقاء کی جنگ لڑتے ہوئے جانوروں کا چارہ اور گھاس پھوس کھانے پر مجبور ہوگئے"۔

امریکی صحافی نے اپنے مضمون کو مکمل کرتے ہوئے لبنان میں مقیم پناہ گزینوں کی حالت زار کا نقشہ پیش کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ "میں لبنان میں شامی پناہ گزین بچوں کو درپیش استحصال کے بارے میں سوچتا ہوں۔ ان سرد ترین راتوں میں ہزاروں کی تعداد ٹھکانے کے بغیر دربدر ہے۔ میرے خیال میں لبنان میں پناہ گزینوں کے لیے امدادی کوششیں فنڈز کی عدم دستیابی کا شکار ہیں.. اور جس نے اقوام متحدہ کو بھی امداد کا سلسلہ منقطع کرنے پر مجبور کردیا.. میں لبنان میں شامی بچوں کا سوچتا ہوں جن کو میں نے روزانہ بھیک مانگتے ہوئے دیکھا.. ان میں کچھ ہیں جو بیروت کی سڑکوں پر چیونگ گم اور پھول بیچتے ہوئے یا جوتوں کی پالش کرتے ہوئے پھرتے رہتے ہیں"۔

لیمب نے اقوام متحدہ کی رپورٹوں کی بنیاد پر بتایا کہ "راہ فرار پر مجبور ہو کر اپنے بچوں کے ساتھ لبنان آنے والی نصف سے زیادہ شامی خواتین جنگ میں اپنے شوہروں اور بڑی بیٹوں کو کھو چکی ہیں۔ ان میں اکثر کام کی تلاش کے لیے سرگرداں ہیں جب کہ اپنے ملک میں یہ ایسا کرنے پر مجبور نہیں تھیں۔ "بہت سی شامی خواتین جو کام حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں ان کو کام دینے والوں اور ساتھی مردوں کی جانب سے جنسی ہراسیت کا سامنا ہوتا ہے.. اس لیے کہ ان کے گھر میں کوئی مرد نہیں جو ان کو تحفظ دے سکے اور مال اور امداد کے عوض بدکاری سے روک سکے"۔

کہانی کا اختتام

لیمب کا کہنا ہے کہ "میں ان بچوں کو اپنے اپارٹمنٹ لے آیا جہاں ادیس ابابا سے تعلق رکھنے والی میری ایک دوست جو بہت اچھی خدمت گار بھی ہے.. وہ گھر میں رکنے اور بچوں کی دیکھ بھال میں مدد کرنے پر آمادہ ہوگئی"۔

امریکی صحافی نے ان بچوں کے واسطے امداد کی خاطر انسانی حقوق کی تنظیموں سے کئی بار رابطہ کیا تاہم یہ تمام کوششیں بے فائدہ رہیں۔ لیمب کی جانب سے مسلسل کوششوں کے ہفتے بھر بعد بھی ان کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔