.

آنگ سوچی صحافیہ کے تند وتیز سوالات پر جھلا اٹھیں

"مجھے مسلمان صحافی کو انٹرویو دینے کا کیوں نہیں بتایا گیا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امن کا نوبل انعام جینتے والی میانمار کی سیاسی رہنما آنگ سان سوچی کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے ملک میں جمہوریت کے قیام کیلئے بہت قربانیاں دیں۔ حتیٰ کہ ڈکٹیٹر کیخلاف آواز بلند کرنے پر انھیں 15 سال تک نظر بندی کا بھی سامنا کرنا پڑا، لیکن حال ہی میں برطانوی نشریاتی ادارے کی ایک خاتون صحافی کو دیئے جانے والے انٹرویو میں سوچی کی شخصیت کا ایک ایسا پہلو سامنے آیا کہ جسے جان ہر کوئی یہ کہنے پر مجبور ہے کہ "ہیں کواکب کچھ، نظر آتے ہیں کچھ۔"

میڈیا رپورٹس کے مطابق محترمہ آنگ سان سوچی ایک برطانوی نشریاتی ادارے کے پروگرام میں شریک تھیں۔ پروگرام کی خاتون میزبان پاکستانی نژاد برطانوی صحافی مشعل حسین تھیں جنہوں نے آن سانگ سوچی پر سخت سوالات کی بوچھاڑ کر دی اور انھیں آڑے ہاتھوں لیا۔ امن کی پرچارک کو کچھ سوجھ نہیں رہا تھا کہ وہ سوالوں کے کیا جواب دے۔ اپنی معتبر شخصیت سے دنیا بھر میں مشہور رہنما آنگ سان سوچی اس موقع پر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور یہاں تک کہہ دیا کہ ’انھیں کسی نے بتایا کیوں نہیں کہ ان کا انٹرویو ایک مسلمان خاتون لے گی‘؟

رپورٹ کے مطابق مشعل حسین نے انٹرویو کے دوران سوچی سے کہا کہ وہ میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام اور اسلام مخالف جذبات کی مذمت کریں۔ اس کے جواب میں آنگ سان سوچی کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں میانمار میں رہنے والے بدھ مذہب کے پیروکاروں نے بھی بڑی تعداد میں ہجرت کی۔ یہ سب کچھ آمرانہ حکومت کے دکھوں کا نتیجہ ہے۔

واضح رہے کہ آنگ سان سوچی کو کمزورں کی طاقت قرار دیتے ہوئے 1991ء میں امن کے نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔ آنگ سان سوچی برما میں جمہوریت کے لیے بہت کوششیں کیں۔ انہوں نے مارٹن لوتھر کنگ اور مہاتما گاندھی کے عدم تشدد کے فلسفلے پر عمل کرتے ہوئے ملک بھر میں پرامن ریلیاں نکالیں، تاہم برما میں بدھ پرستوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتل عام پر انہوں نے آج تک کسی قسم کی کوئی مذمت نہیں کی ہے۔