.

برطانوی اخبار کا داعش کی حمایت سے متعلق گمراہ کن سروے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پریس سے متعلق معیارات کا جائزہ لینے والی عالمی تنظیم نے ایک برطانوی ٹیبلائڈ میں ملک میں آباد مسلمانوں کی جانب سے داعش کی حمایت سے متعلق اسٹوری کو گمراہ کن قرار دیا ہے۔

برطانوی اخبار ''دا سن '' میں نومبر میں صفحہ اول پر یہ اسٹوری شائع ہوئی تھی۔اس میں کہا گیا تھا کہ ہر پانچواں برطانوی مسلمان داعش سے ہمدردی رکھتا ہے۔ انڈی پینڈینٹ پریس اسٹینڈرڈ آرگنائزیشن (آئی پی ایس او) نے قرار دیا ہے کہ اخبار کی یہ اسٹوری گمراہ کن تھی۔

آئی پی ایس او کو ایک سروے پر مبنی ''دا سن'' کی اس اسٹوری کے خلاف تین ہزار سے زیادہ شکایات موصول ہوئی تھیں۔اس سروے میں برطانوی مسلمانوں سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا وہ شام میں لڑائی میں شرکت کے لیے جانے والوں سے ہمدردی رکھتے ہیں؟سوال میں داعش (آئی ایس آئی ایس) کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

اب چار ماہ کے بعد اس ٹیبلائیڈ نے آئی پی ایس او کی مداخلت پر اپنی غلطی تسلیم کرلی ہے اور اپنی ویب سائٹ پر ایک وضاحت شائع کی ہے۔اخبار نے لکھا ہے:''آئی پی ایس او نے شکایت کو جائز قرار دیا ہے اور دا سن سے کہا ہے کہ وہ اس کے ازالے کے طور پر اس فیصلے کو من وعن شائع کرے''۔

یہ پول ''سرویشن'' نامی ایک ادارے نے کیا تھا۔اس وقت اسی طرح کا ایک اور سروے سکائی نیوز نے بھی کیا تھا مگر اس میں برطانیہ کے غیرمسلموں سے سوال پوچھا گیا تھا۔اس کے نتائج حیرت انگیز تھے اور قریباً ہر تین میں سے ایک برطانوی غیر مسلم نے لڑائی کے لیے شام جانے والوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا تھا۔

آئی پی ایس او نے مسلمانوں کی ایک مقامی تنظیم کی شکایت کی بنیاد پر ''دا سن'' کے خلاف تحقیقات کی تھی۔اس تنظیم نے اپنی شکایت میں لکھا تھا کہ ''دا سن نے آئی پی ایس او کی مواد کی درستی سے متعلق شقوں کی خلاف ورزی کی ہے''۔

اخبار میں شائع شدہ بیان کے مطابق ''درخواست گزار نے موقف اختیار کیا تھا کہ پول کو گمراہ کن انداز میں پیش کیا گیا تھا۔جن لوگوں سے سروے کیا گیا تھا،ان سے داعش کے نظریات سے متعلق نہیں پوچھا گیا تھا بلکہ برطانیہ سے شام میں لڑائی کے لیے جانے والوں سے ہمدردی کے اظہار کا یہ بھی مطلب ہوسکتا ہے کہ جن سے سروے کیا گیا تھا کہ وہ لڑائی کے لیے جانے والے افراد کی کم زور ذہنی حالت کی وجہ سے ان سے ہمدردی کا اظہار کررہے ہوں اور ان کے گم راہ ہونے کی وجہ سے افسردہ ہوں''۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ''اخبار پول کے نتائج کو پیش کرتے ہوئے مناسب احتیاط رکھنے میں ناکام رہا تھا اور نتیجتاً اس کی کوریج بالکل گم راہ کن تھی''۔آئی پی ایس او نے اپنی سمری میں لکھا ہے:''دا سن نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا ہے کہ سروے میں ''برطانیہ سے شام میں لڑائی کے لیے جانے والوں'' کا مفہوم مبہم تھا''۔