.

بیوی کو رومال سے ڈھانپنے والے سعودی پر ٹوئیٹس کی بارش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پر اس وقت ایک ریستوران میں کھانا کھانے والے "ایک شخص اور اس کی بیوی" کی تصویر گردش میں ہے۔ تصویر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فیملی کیبن میں موجود آدمی نے اپنے سر کے "شماغ" (عرب جو رومال سر پر پہنتے ہیں) کو اتار کر عورت کے مقابل شیشے کو ڈھانپ دیا تاکہ کیبن کے باہر ریستوران میں موجود دیگر افراد اس کو نہ دیکھ سکیں۔

تصویر کے حوالے سے ملی جلی آراء سامنے آئی ہیں۔ بعض لوگوں نے مذکورہ مرد کا اپنے "رومال" کو لٹکانا اس کی "شدید غیرت" کا مظہر قرار دیا ہے، جب کہ بعض کا خیال ہے کہ یہ شخص بہت زیادہ گہرائی میں جانے والا اور "عورت کے حوالے سے وہمی" ہے لہذا اس کا یہ فعل "اعتماد کی عام فضا کو مسخ کرنے والا" ہے۔ !

سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والے ایک طبقے نے اس معاملے کو کچھ دوسرے انداز سے دیکھا ہے۔ اس طبقے کا کہنا ہے کہ یہ تصویر اس بڑے مسئلے کو ظاہر کرتی ہے جس کا اس وقت معاشرہ شکار ہے اور وہ ہے دوسرے لوگوں کی خلوت کو نشانہ بنانا اور ان کی تصاویر اتارنا۔ ٹوئیٹر پر اکثریت کی رائے یہ ہی ہے۔

قابل توجہ امر یہ ہے کہ اس تصویر سے متعلق بنائے گئے ہیش ٹیگ میں لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی ہے اور چند گھنٹوں کے اندر اس تصویر کے حوالے سے ٹوئیٹس کی تعداد 1 لاکھ 21 ہزار سے تجاوز کرگئی۔
مسئلہ ہے کہاں؟

اس سلسلے میں تبصرہ کرتے ہوئے القصیم یونی ورسٹی میں کلیہ شریعہ کے پروفیسر ڈاکٹر عزالدین النمر نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ ایک قدامت پسند ثقافت والے معاشرے میں اس طرح کا فعل ایک فطری امر ہے۔ ڈاکٹر النمر نے واضح کیا کہ یہ کوئی منفرد یا شاذونادر فعل نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اگر ہم یہ بھی خیال کرلیں کہ جو کچھ ہوا وہ اس مذہبی ثقافت کا نتیجہ ہے جس میں ہماری پرورش ہوئی، تو بھی میں نہیں سمجھتا کہ یہ واقعہ کوئی منفی پہلو رکھتا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کے لوگوں کی خاصیت میں سے ہے اور اس میں کوئی قابل نکیر بات نہیں۔ ہم سب کو چاہیے کہ ایک دوسرے کی عادتوں اور رواجوں کا احترام کریں"۔