.

امریکا میں مسلمان خاندان کی طیارے سے بیدخلی

انسانی حقوق کے علم بردار ملک میں ہوا باز نے تہذیب کا جنازہ نکال دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں عربوں اور مسلمانوں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کا سلسلہ جاری ہے۔ اس حوالے سے دہشت گردی کے فوبیا میں مبتلا ہوکر انہیں ملک کی اندرونی پروازوں کی اڑان سے قبل طیاروں سے اتارے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ تاہم اس غیرانسانی اور غیر اخلاقی رویے کے تازہ ترین واقعے کے شکار ہونے والے خاندان کو نسبتا زیادہ اہانت کا سامنا کرنا پڑا۔ ماں باپ اور تین بچوں پر مشتمل یہ پورا گھرانہ امریکی شہریت رکھتا ہے جن کے چہروں کو دیکھ کر ہی ان کی سلیم فطرت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔

تاہم "امریکن ایئرلائنز" کمپنی کے کپتان نے اس خاندان کو دوسرے زاویے سے پرکھا اور خوف کے اندیشے سے مغلوب ہوگیا۔ اس نے شکاگو سے واشنگٹن جانے والی پرواز کی اڑان سے قبل ہی اس پورے خاندان کو طیارے سے اتار دیا۔ اس پر بچوں کی لبنانی ماں ایمان سعد شبلی کا دل تڑپ گیا اور اسے اپنے فیس بک اکاؤنٹ کے سوا دل کی بھڑاس نکالنے کا کوئی راستہ نظر نہ آیا۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے ایمان کے پیج کو دیکھا جس میں اس نے فضائی کمپنی کو مخاطب کر کے انتہائی دل جلے انداز میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

Shame on you United Airlines for profiling my family and me for no reason other than how we look and kicking us off the plane for "safety flight issues" on our flight to DC for the kids spring break. My three kids are too young to have experienced this.

"امریکن ایئرلائنز تمہیں شرم آنی چاہیے کہ تم نے بنا کسی سبب کے مجھے اور میرے گھروالوں کو (نسلی) امتیاز کا نشانہ بنایا۔ اس کی وجہ ہمارے حلیے کے سوا کچھ نہ تھا۔ ہمیں "فلائٹ سیکورٹی ایشوز" کی بنیاد پر واشنگٹن جانے والی پرواز سے باہر نکال دیا گیا جہاں ہم بچوں کی موسم بہار کی چھٹیاں گزارنے جا رہے تھے۔ میرے تینوں بچے اس (بھیانک) تجربے سے گزرنے کے حوالے سے ابھی بہت چھوٹے ہیں"۔

یہ ایک خاموش چیخ تھی جس نے تیزی کے ساتھ سوشل میڈیا میں اپنا راستہ بنا لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے تمام براعظموں کی مختلف زبانوں میں اس پر تبصرے شروع ہوگئے۔

ایک طیارے سے خارج.. مزید سیکورٹی کے بعد دوسرے میں داخل

سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر سرگرم حلقوں نے لبنانی ماں کے جذبات کو ہزاروں کی تعداد میں شیئر کیا کیوں کہ اس کو ٹوئیٹر پر بھی "ہیش ٹیگ" کردیا گیا تھا۔ علاوہ ازیں ایمان نے اپنے فیس بک پیج پر 250 دوستوں اور 3473 فالوورز سے جہاز کے اندر موبائل سے بنائی گئی وڈیو پھیلا دینے کی درخواست کی۔ جمعرات کے روز "يوٹیوب" پر اپ لوڈ کیے جانے کے بعد سے اس وڈیو کو ابھی تک 27 لاکھ افراد دیکھ چکے ہیں۔ مذکورہ عرب خاندان کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے کی ابھی تک کوئی منطقی وجہ سامنے نہیں آ سکی سوائے یہ کہ دہشت گردی کا شیطان اپنے وسوسوں کے ساتھ امریکیوں پر غالب آ گیا۔

بچوں کی ماں کے حلیے میں سر پر حجاب اور اس کا نام اس بات کا پتہ دیتے ہیں کہ وہ عرب مسلمان ہے۔ اسی طرح بچوں کے باپ کا نام اور ٹھوڑی پر ہلکی سی داڑھی (جب کہ اس نوعیت کی داڑھی تو یورپ اور امریکا میں لاکھوں افراد کے چہروں پر نظر آتی ہے)، یہ اس خاندان کو طیارے سے نکالے جانے کا اہم ترین سبب ہے۔

بعد ازاں "امریکن إیئرلائنز" کی جانب سے اس خاندان سے معذرت کی گئی اور اگلی پرواز میں تمام افراد کے لیے نشستیں بھی فراہم کردی گئیں۔ فضائی کمپنیوں کا یہ وتیرہ رہا ہے کہ وہ شک کی بنیاد پر اتارے جانے والے مسافروں کو دیگر طیاروں کی سیکورٹی کو مزید یقینی بنا کر پھر ان میں سوار کرا دیتی ہیں۔

اس متاثر خاندان میں ماں ایمان سعد شبلی اور باپ محمد شبلی دونوں لبنانی نژاد ہیں۔ تاہم فیس بک پر ماں کے دوستوں کی اکثریت امریکا میں مقیم لبنانی اور عرب ہیں جب کہ بعض بعض امریکی دوست بھی ہیں۔ ایمان کے فیس بک پیچ کو دیکھا جائے تو وہاں لبنان کے علاوہ فرانس کے پرچم کی تصویر بھی نظر آتی ہے جو اس نے پیرس حملوں کے بعد متاثرین سے اظہار یکجہتی کے طور پر لگائی تھی۔

"کیا یہ نسلی امتیاز ہے، یا پھر اس لیے کہ ہم.."

امریکا کے شہر شکاگو میں رہنے والے اس عرب خاندان نے واشنگٹن جانے کے لیے "امریکن ایئرلائنز" کے طیارے پر بکنگ کرائی تھی۔ طیارے کے اڑنے سے قبل ایمان نے ایک ایئرہوسٹس نے بچوں کے سینے پر باندھنے والی حفاظتی بیلٹ طلب کی جس کو harness safety seat کہا جاتا ہے اور یہ بڑوں کی حفاظتی بیلٹ سے مخلتف ہوتی ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" پر پوسٹ کی گئی وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایئر ہوسٹس نے مطلوبہ بیلٹ لانے کے بجائے ایمان اور اس کے شوہر کو کپتان کا یہ پیغام پہنچایا کہ وہ بچوں کو لے کر طیارے سے چلے جائیں۔ جب بات زیادہ بڑھی تو کپتان نے خود آ کر انہیں اپنا حکم سنا دیا۔

اس موقع پر شوہر اور بیوی نے بالخصوص ایمان نے کپتان سے وجہ پوچھتے ہوئے سوال کیا کہ "کیا یہ نسلی امتیاز ہے، یا پھر اس لیے کہ ہم.."، ماں نے یہ جملہ مکمل نہیں کیا تاہم کپتان جملے کے بقیہ حصے کو سمجھ گیا اور جواب دیا کہ " نہیں، اس کی وجوہات کا تعلق پرواز کی سیکورٹی سے ہے"۔ تاہم کپتان نے اس خطرے کی تفصیل نہیں بتائی جو ان پانچ مسافروں سے جن میں تین بچے بھی تھے، اس پرواز کی سیکورٹی کو پہنچ سکتا تھا۔ ہم نے ڈیٹروئٹ شہر میں WDIV ٹی وی چینل کے میزبان کو اسی خبر کو نشر کرتے ہوئے دیکھا کہ وہ اس بات پر حیران تھا کہ کپتان نے طیارے سے نکالنے جانے والے مسافروں کو اس اقدام کی وجہ نہیں بتائی۔

اسی چیز نے "کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز" CAIR کو بھی شدید حیرت سے دوچار کردیا۔ کونسل کی جانب سے جاری بیان میں بدیہی طور پر شکوہ بھی کیا گیا مگر یہ بھی موسم سرما کے اس بادل کی طرح بلا نتیجہ ہی رہے گا جو پیاسے کو نظر تو آتا ہے مگر برستا نہیں!