.

قدیم ترین بھارتی مسجد کا ماڈل، شاہ سلمان کو مودی کا تحفہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے دورے پر آئے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے اتوار کو اپنے دورے کے دوسرے اور آخری روز سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو خصوصی تحفہ پیش کیا۔ اس تحفے کے ساتھ کئی صدیوں پرانی تاریخ جڑی ہوئی ہے۔ جی ہاں مودی نے شاہ سلمان کو بھارت میں عرب مسلمانوں کے ہاتھوں تعمیر کی جانے والی پہلی مسجد کا حقیقی ماڈل پیش کیا جس پر سونے کا پانی چڑھا ہوا ہے۔ اس قدیم ترین مسجد کے حوالے سے دلچسپ ترین بات اس کے اندر موجود تیل سے جلنے والا چراغ ہے جو تقریبا 1000 سال سے ابھی تک روشنی دے رہا ہے۔

اس نادر نوعیت کے تحفے کے مقابل شاہ سلمان کی طرف سے مودی کو سعودی عرب کا سب سے بڑا شہری اعزاز "شاہ عبدالعزیز ایوارڈ" دیا گیا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دونوں سربراہان کے درمیان بات چیت کا اختتام 5 معاہدوں پر دستخط کے ساتھ ہوا۔ یہ معاہدے دہشت گردی کے لیے مالی رقوم کی فراہمی اور منی لانڈرنگ سے متعلق انٹیلجنس معلومات کے تبادلے، لیبر اور نجی سیکٹر میں دونوں ملکوں کے درمیان سرمایہ کاری کی سپورٹ سے متعلق ہیں۔

"ٹوئیٹر" پر تحفے سے متعلق اعلان

نریندرا مودی نے "چیرامان جامع مسجد" کا ماڈل پیش کرنے کی اطلاع ٹوئیٹر پر اپنے سرکاری اکاؤنٹ @PMOIndia پر ٹوئیٹ کی۔ ساتھ ہی سعودی فرماں روا شاہ سلمان، ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف، وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقاتوں کی تصاویر کے علاوہ، ماڈل اور سعودی ذمہ داران کے ساتھ ملاقاتوں کی تصاویر بھی پوسٹ کیں۔ بات چیت میں بھارت اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔ مملکت میں بھارتیوں کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے۔ بھارت کی جانب سے درآمد کیے جانے والے مجموعی تیل کا 19 فی صد حصہ مملکت فراہم کرتی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم صرف 2014 میں ہی 39 ارب ڈالر رہا۔

جہاں تک بھارت کی اس قدیم ترین مسجد کا تعلق ہے تو یہ بھارت کے جنوبی ساحل پر پھیلی ہوئی ریاست "کیرالہ" کے شہر "کوڈنگلور" میں واقع ہے۔ مؤرخین کے مطابق اس مسجد کو حضرت مالک بن دینار البصری رحمہ اللہ نے کم از کم 1300 سال قبل تعمیر کیا تھا۔ حضرت مالک بن دینار نے 127 ہجری میں اسی شہر میں وفات پائی جہاں انہوں نے عرب تاجروں اور اپنے ہمراہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر یہ مسجد تعمیر کی تھی۔ وہ اپنے آبائی وطن سے دور اسی شہر میں مدفون ہیں۔

ہندوستانی بادشاہ کا قبول اسلام

"چیرامان جامع مسجد" کی تعمیر اس وقت عربوں اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کی دلیل ہے۔ یہ تعلقات اسلام سے پہلے کے تھے تاہم پھر اس دین حنیف کے ظہور کے ساتھ بڑھتے چلے گئے۔ عرب تاجر جہاں گئے انہوں نے اسلام کی دعوت دی۔ اس دوران ہندوستان میں چیرا سلطنت کے آخری بادشاہ چیرامان پیرومال کی بعض عرب تاجروں سے ملاقات ہوئی جن کے ایمانی کردار سے وہ بہت متاثر ہوا۔ وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم عصر تھا اس لیے فوری طور پر مدینہ روانہ ہوگیا۔

"سوشل اسٹرکچر اینڈ چینج" نامی کتاب کے مطابق چیرامان پیرومال نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام تبدیل کرکے تاج الدین رکھ لیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ چیرامان ہندوستان واپسی کے سفر کے دوران راستے میں فوت ہوگیا تھا۔ اس کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے مالک بن دینار رحمت اللہ علیہ جو تابعی ہیں، انہوں نے یہ مسجد تعمیر کی۔ تاریخی حقائق کے اعتبار سے ان واقعات کے زمانوں میں اختلاف پایا جاتا ہے مگر اس اختلاف کے باوجود اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ "چیرامان جامع مسجد" دنیا کی قدیم ترین مساجد میں سے ہے۔ اسی واسطے بھارتی وزیراعظم سعودی فرماں روا کے لیے اس کا سونے کا پانی چڑھا ماڈل تحفے کے طور پر ساتھ لے گئے۔

اس مسجد میں تقریبا ایک ہزار سال سے جلنے والا چراغ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے لیے بھی دلچسپی کا امر ہے۔ تاہم کیرالہ کی اکثر مساجد کی طرح یہاں بھی غیرمسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کی انٹرنیٹ پر تحقیق کے مطابق سابق بھارتی صدر ابو بكر زين العابدين عبد الكلام جو گزشتہ برس جولائی میں 84 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ انہوں نے 2005 میں اس مسجد کا دورہ کیا تھا۔ یہ کسی بھی بھارتی صدر کا کسی مسجد کا پہلا دورہ تھا۔ کئی برس تک جاری رہنے والی جامع نوعیت کی از سر نو تعمیر کے بعد اب یہ مسجد نئے زمانے کی تعمیر نظر آتی ہے جب کہ درحقیقت یہ دنیا کی قدیم ترین مساجد میں سے ہے۔