.

داعش نے نوادرات کی فروخت سے کروڑوں کما لیے: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ دولتِ اسلامیہ (داعش) عراق اور شام سے لوٹے گئے تاریخی نوادرات کی غیر قانونی تجارت سے پندرہ سے بیس کروڑ ڈالرز سالانہ کمارہا ہے۔

یہ انکشاف اقوام متحدہ میں متعیّن روسی سفیر ویٹالے چرکین نے سلامتی کونسل کے نام لکھے گئے ایک خط میں کیا ہے۔انھوں نے لکھا ہے:'' شام اور عراق میں عالمی اہمیت کی حامل قریباً ایک لاکھ ثقافتی اشیاء ، ساڑھے چار ہزار آثار قدیمہ کی جگہیں ،ان میں نو کو یونیسکو نے عالمی ورثہ قرار دے رکھا ہے،اس وقت داعش کے کنٹرول میں ہیں''۔

انھوں نے لکھا ہے:''نوادرات اور تاریخی آثار کے خزانے کی غیر قانونی تجارت سے انتہا پسند سالانہ پندرہ سے بیس کروڑ ڈالرز کما رہے ہیں۔ان تاریخی اشیاء کی اسمگلنگ کا بندوبست داعش کا نوادرات ڈویژن کرتا ہے۔یہ قدرتی وسائل کی وزارت کے مساوی ادارہ ہے۔صرف اس ڈویژن کے مجاز افراد ہی کو نوادرات کو نکالنے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے کی اجازت ہوتی ہے''۔

روسی سفیر نے الزام عاید کیا ہے کہ شام اور عراق سے لوٹے گئے نوادرات کو ترکی کے علاقے کے ذریعے اسمگل کیا جاتا ہے۔وہ اس سے پہلے ترکی پر داعش سے تیل کی غیر قانونی خریداری میں معاونت کا بھی الزام عاید کر چکے ہیں۔

چرکین کے بہ قول ''ثقافتی ورثے کی اشیاء کی اسمگلنگ کا بڑا مرکز ترکی کا شہر غازیان تیپ ہے،وہاں چوری شدہ اشیاء غیر قانونی نیلامی کے ذریعے فروخت کی جاتی ہیں اور پھر نوادرات کی دکانوں کے ایک نیٹ ورک کے ذریعے انھیں مقامی مارکیٹ میں پھیلا دیا جاتا ہے''۔

ترک حکام نے فوری طور پر روسی سفیر کے ان الزامات کے ردعمل میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ روس اور ترکی کے درمیان گذشتہ سال نومبر میں شام کے ساتھ واقع سرحدی علاقے میں روس کا لڑاکا طیارے مار گرائے جانے کے بعد سے تعلقات کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔

چرکین نے مزید لکھا ہے کہ ''زیورات ،سکے اور لوٹی گئی دوسری اشیاء ترکی کے شہروں ازمیر،مرسین اور انطالیہ میں لائی جاتی ہیں جہاں مجرم گروپ ان کی اصلیت کے بارے میں جعلی دستاویزات گھڑتے ہیں۔پھر مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے نوادرات کے شائق لوگوں کو انھیں فروخت کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔بالعموم یہ کام انٹرنیٹ پر ای بے اور دوسری ویب سائٹس کے ذریعے کیا جاتا ہے اور ان کی آن لائن بولیاں لگائی جاتی ہیں''۔

ان کا کہنا ہے کہ ''حال ہی میں داعش نے سوشل میڈیا سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔اس طرح دلال کا کردار قریباً ختم ہوکر رہ گیا ہے اور وہ نوادرات کو خریداروں کو براہ راست فروخت کررہے ہیں''۔

ای بے کا کہنا ہے کہ ''وہ ان الزامات سے بالکل بے خبر ہے کہ اس کے ذریعے لوٹی گئی اشیاء کو فروخت کیا جارہا ہے۔ہم اس خط میں کیے گئے دعووں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ای بے کو اپنے پلیٹ فارم پر ظاہر ہونے والی ثقافتی اور تاریخی اشیاء کے بارے میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ہے''۔

اس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''آج تک ہم کسی ایسے براہ راست ثبوت سے آگاہ نہیں تھے کہ ای بے پر داعش کی لوٹ مار یا ایسی ہی کسی سرگرمی کے نتیجے میں حاصل کردہ اشیاء بھی فروخت کے لیے پیش کی جارہی ہیں''۔