.

سویڈش فلسطینی کا جنگجوؤں نے کیسے ذہن تبدیل کیا؟

مجرمانہ پس منظر کے حامل نوجوان پر برسلز بم حملوں میں ملوّث ہونے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سویڈن کے شہر مالمو کے علاقے روزن گارڈ سے تعلق رکھنے ولا اسامہ کریم ایک لاابالی قسم کا نوجوان تھا۔ سویڈش معیار کے مطابق وہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوّث ہوگیا تھا۔پھر یوں ہوا کہ اس کو سخت گیروں نے ''ذہنی غسل'' دیا اور وہ شام پہنچ کر داعش میں شامل ہو کر لڑتا رہا تھا۔

پھر وہ شام سے بیلجیئم لوٹ آیا اور وہاں داعش کے ایک سیل میں شامل ہوگیا۔اب وہ گرفتار ہے اور بیلجیئن پراسیکیوٹرز نے اس پر برسلز میں گذشتہ ماہ دہشت گردی کے واقعے میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا ہے۔

بیلجیئن کے پراسیکیوٹرز کے مطابق اسامہ کریم برسلز میں معلبیک سب وے اسٹیشن پر حملہ کرنے والے دوافراد میں سے ایک تھا۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ جس شاپنگ مال سے ائیرپورٹ پر بم حملے میں استعمال ہونے والا سوٹ کیس خرید کیا گیا تھا،یہ نوجوان وہاں بھی موجود تھا۔

23 سالہ اسامہ کریم روزن گارڈ ہی میں پلا بڑھا تھا۔ غیرملکی تارکین وطن کا مسکن یہ علاقہ سویڈن میں جرائم اور بے روزگاری کی بلند شرح کے لیے بدنام ہے۔یہاں کے 80 فی صد سے زیادہ باسی تارکین وطن کی پہلی یا دوسری نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

تارکین وطن کو سویڈش معاشرے میں گھلنے ملنے میں مدد دینے کے لیے روزن گارڈ میں ایک پروگرام چلانے والے محمد خورشید نے بتایا ہے کہ اسامہ کریم ایک فلسطینی خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔وہ چوری سمیت مختلف مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوّث ہونے کی وجہ سے پولیس کے لیے ایک جانا پہچانا چہرہ تھا۔

عراق سے تعلق رکھنے والے محمد خورشید کا کہنا ہے کہ ''ایسے نوجوان سخت گیروں کا بالکل ٹھیک ٹھیک ہدف ہوتے ہیں۔اسامہ بے روزگار تھا،اس کا کوئی مستقبل نہیں تھا اور اس کے پاس کوئی رقم بھی نہیں تھی''۔

اسامہ کریم کی پھوپھی اخلاص دباس نے سویڈن کے چینل ٹی وی4 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ان کا خاندان اس کے انتہاپسند بن جانے پر ہکّا بکّا رہ گیا تھا۔وہ اچانک غائب ہوگیا تھا اور خاندان میں کوئی بھی اس کے بارے میں آگاہ نہیں تھا۔پھر ایک دن اس نے بیرون ملک سے فون کال کی اور بتایا کہ میں ان کے (داعش کے) ساتھ ہوں اور واپس نہیں آؤں گا''۔اس خاتون نے مزید بتایا کہ اس علاقے کے اور بہت سے نوجوان بھی غیرملکی جنگجو بن چکے ہیں۔

اسامہ نے شام سے اپنی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی تھیں۔ان میں سے ایک میں اس نے آتشیں رائفل پکڑ رکھی تھی اور اس کی پشت میں دولت اسلامیہ (داعش) کا سیاہ پرچم نظر آرہا تھا۔

سویڈش نیشنل ڈیفنس کالج کے انسداد دہشت گردی کے ماہر میگنس رن اسٹروپ کا کہنا ہے کہ اسامہ کریم نے مالمو سے تعلق رکھنے والے اور لوگوں کو بھی داعش کی صفوں میں بھرتی کرنے کی کوشش کی تھی۔رن اسٹروپ 2009ء میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے شریک مصنف ہیں۔انھوں نے اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا تھا کہ روزنگارڈ میں انتہا پسندی پھیل سکتی ہے۔

سویڈن میں 1990ء سے مقیم ایک چھیالیس سالہ فلسطینی نبیل شبیب کا کہنا ہے کہ ''اسامہ کو ذہنی غسل دیا گیا تھا لیکن ہم نہیں جانتے کہ کس نے ،کب اور کہاں اس کو برین واش کیا تھا''۔نبیل اس نوجوان کے والد کو جانتے ہیں اور انھوں نے بتایا ہے کہ وہ ایک میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور علاقے کی ایک مسجد کے پیش امام ہیں لیکن وہ کوئی سخت گیر (ریڈیکل) نہیں ہیں۔

نبیل شبیب نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ روزن گارڈ کا نام سویڈیش اور عالمی میڈیا کی سرخیوں میں منفی انداز میں اکثر آتا ہے۔اس علاقے کو ایک طویل عرصے سے سویڈش معیار کے مطابق جرائم کی وجہ سے مسائل درپیش ہیں حالانکہ یہ امریکا کے بڑے شہروں کے جرائم زدہ اور محروم علاقوں سے کہیں بہتر ہے۔

ان کے بہ قول:''اس علاقے کے مشہور بیٹے زلتن ابراہیمووچ ہیں۔وہ سویڈن کے فٹ بال کے سب سے کامیاب کھلاڑی ہیں۔یہاں سے نکلنے کے دو ہی راستے ہیں۔فٹ بال اور سخت گیری۔زلتن بھی ایک لاابالی نوجوان تھا لیکن اس نے ایک راستہ چنا اور فٹ بال کا کھلاڑی بن گیا۔وہ ہمیشہ ہم میں رہے گا، مگر اسامہ کریم نہیں''۔