.

سعودی عرب : طلاق کی شرح میں اضافے کی 5 وجوہات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں وزارت انصاف کے سرکاری ترجمان الشیخ منصور القفاری نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا ہے گزشتہ سال (2015) مملکت میں طلاق کے مقدمات کی تعداد 35268 رہی جب کہ اس عرصے کے دوران ہونے والی شادیوں کی تعداد 133687 تھی۔ القفاری کے مطابق 2015 میں طلاق کی شرح 26.3 ٪ تک پہنچ گئی۔

عرب نفسیاتی معالجین کی یونین کے نائب سکریٹری جنرل اور نفسیاتی امراض کے کنسلٹنٹ ڈاکٹر طارق الحبیب نے طلاق کے تیزی سے پھیلتے مظہر کی 5 وجوہات متعین کی ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے دروان طلاق کی شرح میں اضافے کے اہم ترین اسباب یہ ہیں :

1- شوہر اور بیوی کے درمیان ایک گہری خلیج جو ایک دوسرے کی طبیعتوں سے تنفر، سوچ کے نہ ملنے اور توجہ کے امور کے اختلافات کی شکل میں نظر آتی ہے۔

2- جذبات کے عدم مساوات اور بالغ نظری کی کمی نے شادی کو ضروریات کے حوالے سے اطمینان کا ذریعہ ہونے کے بجائے ایک قسم کی دباؤ کی صورت بنا دیا ہے جس میں کوئی ایک جانب یا جانبین ہی اپنی ضروریات اور تقاضوں سے محروم ہوتے ہیں۔

3- بے وفائی جس کو بعض لوگ اپنے ذاتی حقوق میں شمار کرتے ہیں اور انہیں ذمہ داری کا ادنی ترین احساس بھی نہیں ہوتا۔ اس کے سبب بے وفائی کا مرتکب فریق دوسرے فریق کو محض ضروریات پوری کرنے والے شخص کی نظر سے دیکھتا ہے اور زندگی میں فعال شریک نہیں سمجھتا۔

4- فریقین کی جانب سے توقعات جو ازدواجی زندگی کی حقیقت سے مختلف ہوتی ہیں۔ اس کے بعد تبدیلی کو قبول کرنے کی عدم قدرت اور مفاہمت کی سطح میں کمی، ان کے علاوہ جذبات کے اظہار کے حکیمانہ طریقے سے غیرمانوس ہونا، یہ تمام امور بنیادی حل کے طور پر طلاق کا سہارا لینے پر مجبور کردیتے ہیں تاکہ دوسری زندگی میں راحت اور سکون تلاش کیا جاسکے۔

5- شخصیت اور کردار کی خصوصیات طلاق کے موضوع میں اصل محرک ہوتی ہیں۔ جن لوگوں میں دباؤ کی صورت حال سے نمٹنے اور حدود میں رکھنے کی مہارت نہیں ہوتی وہ دوسرے لوگوں سے زیادہ طلاق کی طرف لپکتے ہیں۔