.

سعودی مذہبی پولیس کا مشتبہ افراد کو پکڑنے کا اختیار ختم

کابینہ کا محکمہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تنظیم نو کے لیے نیا حکم نامہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی کابینہ نے ایک حکم نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت کمیٹی برائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر (المعروف مذہبی پولیس) کو قانون کی خلاف ورزیوں کے مرتکب مشتبہ افراد کا پیچھا کرنے اور انھیں گرفتار کرنے سے روک دیا گیا ہے۔اب اس محکمے کے اہلکار خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کے بارے میں پولیس یا انسداد منشیات فورس کو مطلع کریں گے اور وہی ایسے افراد کو گرفتار کرسکیں گی۔

عربی روزنامے الریاض میں شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ ایک تفصیلی حکم نامے کا حصہ ہے۔اس میں کمیٹی برائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ازسرنو منظم کرنے اور اس کے تفویض کار کی وضاحت کی گئی ہے۔

اس حکم نامے کے مطابق سعودی کابینہ نے کمیٹی برائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی جنرل پریزیڈینسی کی تنظیم نو سے اتفاق کیا ہے اور وزارت خزانہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس کی کارروائیوں کے لیے مکمل امداد وحمایت مہیا کرے۔اس حکم نامے کی نکتہ وار مزید تفصیل یہ ہے:

1۔ کمیٹی برائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی جنرل پریزیڈینسی اور اس کی ماتحت شاخیں ایک آزاد ادارہ ہیں اور وہ براہ راست وزیراعظم کے دفتر کو جواب دہ ہیں۔

2۔کمیٹی کے صدر کا عہدہ وزیر کے برابر ہوگا اور اس کا تقرر براہ راست شاہی فرمان کے ذریعے کیا جائے گا۔

3۔ تمام صوبوں کی کمیٹی برائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اپنی شاخیں ہوں گی۔اس کے عمومی صدر کمیٹی کی ماتحت شاخوں کو احکامات جاری کرنے کے ذمے دار ہوں گے۔تمام شاخ کمیٹیاں شہروں اور قصبوں میں ضروریات کے مطابق ماتحت مراکز قائم کرنے کی ذمے دار ہوں گی۔

4۔ صدر شاخ کمیٹیوں کو چلانے اور انھیں احکام جاری کرنے کے ذمے دار ہوں گے اور متعلقہ محکمے کے حکام کو بھی ایسا حکم نامہ جاری کردیا گیا ہے۔

5۔کمیٹی برائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ارکان کے لیے ضروری ہے کہ وہ :
(الف) ۔محکمے کی دفتر کی وضع کردہ شرائط کے مطابق مناسب تعلیم یافتہ ہوں ۔
ب۔مناسب مذہبی تعلیم کے حامل ہوں۔ وہ نیکیوں کو فروغ دیں اور برائیوں سے بچیں۔
ج۔بے داغ کردار اور اچھی شہرت کے مالک ہوں۔
د۔ مجرمانہ ریکارڈ رکھتے ہوں اور نہ محکمے میں بھرتی سے قبل ان کے خلاف کوئی عدالتی فیصلہ ہو۔انھوں نے جیل میں ایک سال سے زیادہ عرصہ نہ گزارا ہو۔

6۔ کمیٹی برائے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی مثالوں کی روشنی میں رحم ،نیک دلی اور شرافت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے گی۔کمیٹی سے یہ بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ پولیس اور انسداد منشیات فورس کے حکام کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔

7۔ دفعہ 6 کو ملحوظ رکھتے ہوئے کمیٹی کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ گشت کے دوران کسی مشتبہ سرگرمی یا جرم کے رونما ہونے کے بارے میں سرکاری حکام کو آگاہ کرے اور ان مشتبہ افراد کا پیچھا کرنے،انھیں پکڑنے ،ان سے تفتیش کرنے اور حراست میں لینے کا کام متعلقہ سرکاری حکام پر چھوڑ دے۔

کمیٹی کو شاہراہوں،عوامی مقامات اور بازاروں میں سرکاری اوقات کار کے دوران اور شیڈول کے تحت اپنے فرائض انجام دینے کی اجازت ہوگی۔ہر شاخ کمیٹی بھی اپنے منظورشدہ مالی بجٹ کے مطابق کام کرے گی۔سرکاری اوقات کار کے دوران ہر اہلکار اپنا شناختی کارڈ ظاہر کرنے کا پابند ہوگا۔اس میں واضح طور پر اس کا نام ،عہدہ اور تفویض کار لکھا ہوا ہونا چاہیے۔

8۔ کمیٹی پانچ ارکان پر مشتمل ایک مشاورتی بورڈ کے ساتھ مل کر کام کرے گی۔وزیراعظم کا دفتر ان پانچ ارکان کو نامزد کرے گا۔

9۔ تمام سرکاری اور نجی ادارے اس حکم نامے میں وضع کردہ قواعد وضوابط کے تحت کمیٹی کی پیروی کرنے اور اس کی حمایت کرنے کے پابند ہیں۔

10۔وزیراعظم کا دفتر اس تنظیم کے لیے انتظامی قواعد وضوابط جاری کرے گا۔