.

فرانسیسی وزیراعظم جامعات میں حجاب پر پابندی کے حامی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانسیسی وزیراعظم مینول والس نے جامعات میں مسلم طالبات کے سرپوش اوڑھنے پر پابندی کی حمایت کردی ہے۔ان کے اس نقطہ نظر کی خود ان کی کابینہ میں شامل وزراء نے مخالفت کردی ہے۔

فرانسیسی وزیراعظم نے روزنامہ لبریشن ( آزادی) کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ فرانس کو فرانسیسی مسلمانوں کو انتہاپسند نظریے سے ''بچانا'' چاہیے۔انھوں نے کہا کہ ''جب سیاسی وجوہ کی بنا پر سرپوش اوڑھا جاتا ہے تو یہ خواتین کو دبا دیتا ہے اور یہ فیشن کی کوئی چیز یا کسی دوسری چیز کی طرح استعمال کی کوئی شے نہیں ہے''۔

انھوں نے فرانس کی سیکولر روایات کا حوالا دیا ہے۔ فرانس میں مسلم خواتین پر مکمل حجاب اوڑھنے،چہرے کو چھپانے اور سرکاری اسکولوں یا عمارتوں میں مسلم طالبات پر سرپوش اوڑھنے یا دوسری مذہبی علامات کے استعمال کرنے پر پابندی عاید ہے۔

ان سے جب اس تناظر میں یہ سوال کیا گیا کہ کیا وہ جامعات میں بھی سرپوش اوڑھنے پر پابندی عاید کرنے کے حق میں ہیں؟اس کے جواب میں مینول والس نے کہا کہ ''یہ پابندی عاید کی جانی چاہیے لیکن آئینی قدغنوں کے پیش نظر یہ پابندی مشکل ہوگی''۔

فرانس کی مسلم وزیر تعلیم نجات ولود بیلکاجیم اور اعلیٰ تعلیم کے نائب وزیر تھیری مینڈن نے اس پابندی کی مخالفت کردی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وہ جامعات میں مسلم طالبات کے حجاب اوڑھنے پر پابندی لگانے کے حق میں نہیں ہیں۔