.

ملائیشیا میں 20 ملین ڈالر نذرآتش، مگرکیوں اور کیسے؟

ملایا حکومت نے ساڑھے نو ٹن ہاتھی کے دانت تلف کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ملائیشیا کی حکومت نے افریقی ممالک سے اسمگل کیے گئے 20 ملین ڈالر مالیت کے 9.5 ٹن ہاتھی کے دانت تلف کرنے کے بعد انہیں نذرآتش کردیا۔ یوں ملائیشیا حکومت نے اس اقدام سے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے ملک میں اسمگلروں کو قدم جمانے نہیں دے گی اوران کی بھاری مالیت کی اسمگل شدہ چیزیں اسی طرح تلف کی جاتی رہیں گی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ملائیشیا کے وزیر برائے قدرتی وسائل وماحولیات’وان جونیدی توانکوجعفر‘ نے بتایا کہ ان کے ملک میں ہاتھی کے اسمگل شدہ دانتوں کوتلف کرنے کا اب تک کا پہلا واقعہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے ایک افریقی ملک سے تعلق رکھنے والے اسمگلروں کو حراست میں لیا اور ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں ہاتھی کے گراں قیمت دانت ضبط کیے گئے۔ بعد ازاں ساڑھے نو ٹن ہاتھی کے دانت پتھر پیسنے والی کریش مشین میں ڈال کر پہلے انہیں پیسا گیا۔ بعد ازاں انہیں آگ لگا کر جلا دیا گیا۔

توانکو جعفر کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس اقدام سے اسمگلروں اور جرائم پیشہ عناصر کو یہ پیغام دیا ہے کہ حکومت مملکت کی حدود میں اس نوعیت کی کسی بھی غیرقانونی سرگرمی کی اجازت نہیں دے گی اور نہ ہی ہاتھی جیسے جانور کو نقصان پہنچانے میں ملوث مافیا کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہاتھی چاہے افریقی ملکوں میں ہی کیوں نہ ہوں وہ سب کے مشترکہ قدرتی وسائل کاحصہ ہیں۔

خیال رہے کہ دنیا بھر میں ہاتھی کے دانتوں کو کئی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسمگلر ہاتھی کے دانتوں کے حصول کے لیے بھاری رقوم صرف کرتے اور دانتوں کا غیرقانونی کارو بار کرتے ہیں۔