.

عربی ٹیکسٹ پیغام پرعراقی سائنسدان ’داعشی‘ قرار!

یورپ نے عرب اور اسلام فوبیا کی بدترین مثال قائم کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی ملکوں بیلجیئم اور فرانس میں حالیہ عرصے کے دوران دہشت گردی کے واقعات کے بعد اسلام دشمنی، نسل پرستی اور مسلمانوں سے امتیازی سلوک کے مظاہر میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور اب مسلمان روزمرہ کی بنیاد پر یورپی اقوام کے فوبیا کا شکار ہونے لگے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یورپی ملکوں میں عراق کے ایک سرکردہ پروفیسر اور کیمسٹری کے سائنسدان حسن دیواشی اسلام فوبیا کی مکروہ مہم کا نیا شکار ہوئے ہیں۔ انہیں ایک خاتون کی شکایت پر ویانا سے لندن آتے ہوئے نہ صرف ہوائی جہاز سے اتار دیا گیا بلکہ آسٹرین تفتیش کاروں نے ان کے ساتھ نہایت توہین آمیز سلوک کیا ہے۔ اس سارے واقعے کی وجہ اس سے بھی زیادہ حیران کن ہے کیونکہ حسن دیواشی نے اپنی اہلیہ کو موبائل فون کے ذریعے عربی میں ٹیکسٹ میسج لکھا جس میں انہوں ے نے ویانا میں منعقدہ سائنس کانفرنس میں شرکت کے بعد لندن واپسی کی اطلاع دی گئی تھی۔

اخبار’’ڈیلی میل‘‘ کے مطابق عراقی سائنس دان حسن دیواشی جو’چیولڈ ھیلم‘ یونیورسٹی میں کیمسٹری کے استاد بھی ہیں حال ہی میں ویانا سے برطانیہ کی ایئر لائن’’ایزی جیٹ‘‘ کی ایک پرواز کے ذریعے لندن لوٹ رہے تھے۔ ویانا ہوائی اڈے پر طیارے کی پرواز سے قبل انہوں نے اپنی اہلیہ کو اپنی واپسی کی کی اطلاع موبائل فون کے مسیج کے ذریعے دی۔ طیارے میں موجود ایک خاتون نہیں انہیں عربی میں ٹیکس مسیج لکھتے دیکھا تو انہیں شدت پسند تنظیم ’داعش‘ کا جنگجو قرار دے کر طیارے سے فورا باہر نکالنے کا مطالبہ کیا۔ ہوائی جہاز کے عملے نے بھی خاتون کی شکایت پر بغیر چھان بین کے پولیس کو اطلاع کی جس نے حسن دیواشی کو جہاز سے اتار کر حراست میں لے لیا۔

دیواشی نے بتایا کہ میں نے تفتیش کاروں کے تمام سوالوں کے تسلی بخش جواب دیے مگر انہوں نے اس کے باوجود میرا موبائل فون ضبط کر رکھا ہے۔

خیال رہے کہ عراق سے تعلق رکھنے والے سائنسدان 32 سالہ حسن دیواشی دو بچوں کے باپ ہیں۔ ان کے ایک بچے کی عمر چار سال اور دوسرے کی نو ماہ ہے۔ اپنے ساتھ پیش آئے ناخوش گوار واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے دیواشی کا کہنا تھا کہ آسٹرین حکام نے بے قصور ہونے کے باوجود میرے ساتھ توہین آمیز، نسل پرستانہ اور امتیازی سلوک کیا ہے۔ میرا جرم صرف اتنا ہے کہ میں نے لندن میں موجود اپنی اہلیہ کو آسٹریا سے واپسی کی عربی میں اطلاع دی تھی۔

ادھر برطانوی ایزی جیٹ فضائی کمپنی نے بعد از ’خرابی بسیار‘ حسن دیواشی سے اس کے ساتھ پیش آئے واقعے پر معذرت کرتے ہوئے لندن کے لیے ٹکٹ کی رقم ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں حسن دیواشی کے ساتھ پیش آئے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کمپنی کسی بھی مسافر کے ساتھ اس کے رنگ،نسل یا مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کرتی تاہم سیکیورٹی چھان بین کے امور میں اسے عالمی اداروں کے ساتھ تعاون کرنا پڑتا ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ ایک ہفتہ قبل بھی اس کمپنی کے ساتھ پیش آیا چکا ہے ایک باریش نوجوان کو دیکھ کر طیارے میں موجود خاتون نے اس پر شدت پسند ہونے کا شبہ کیا اور اسے طیارے سے اتروا دیا گیا تھا۔