.

90 سالہ ملکہ الزبتھ.. تمام عرب ممالک کی خودمختاری کی ہم عصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حجاب سے ملتےجلتے انداز میں سر ڈھانپے ہوئے وہBalmoral پیلس کے قریب چل رہی تھی جو اسکاٹ لینڈ میں برطانیہ کی ملکہ الزبتھ دوم کے تعطیلات گزارنے کے لیے مخصوص محل ہے۔ اس دوران امریکی سیاحوں نے اس کو روکا اور ان میں سے بعض نے سوال کیا کہ آیا وہ اسی علاقے سے تعلق رکھتی ہے اور کیا وہ ملکہ کو ذاتی طور پر جانتی ہے۔ اس کا جواب تھا "میں تو نہیں البتہ وہ جانتا ہے"، ساتھ ہی اپنے ساتھ چلنے والے مرد کی جانب اشارہ کر دیا۔

وہ آدمی جواب دینے والی شخصیت کا ذاتی محافظ تھا اور وہ شخصیت خود ملکہ الزبتھ تھیں جن کی عمر کے 90 سال پورے ہونے پر جمعرات کے روز ان کا جنم دن منایا جا رہا ہے۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق ملکہ الزبتھ دوم 20 اور 21 اپریل 1926 کی درمیانی شب 2 بج کر 40 منٹ پر لندن میں اپنے نانا کے گھر پیدا ہوئیں۔

ملکہ کی جانب سے سیاحوں کے ساتھ اس دلکش فریب کا ذکر سب سے پہلے ان کے ذاتی محافظ Richard Griffin نے برطانوی اخبار " ٹائمز" کے ساتھ دو روز قبل اپنی گفتگو میں کیا۔ اس کے ساتھ وہ بھی شامل ہے جس کا ذکر 2003 سے 2006 تک ریاض میں برطانوی سفیر شیرارڈ کوپر- کولز نے اپنی کتابEver the Diplomat میں کیا جو ان کی یادداشتوں پر مشتمل ہے۔ یادداشتوں میں 1998 میں اس وقت کے سعودی ولی عہد شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز (جو 2005 میں مملکت کے فرماں روا بنے) کے دورہ برطانیہ کا بھی ذکر ہے۔ دورے میں ملکہ برطانیہ نے ان کو اسکاٹ لینڈ میں واقع "بیلمورال" پیلس میں ظہرانے پر دعوت دی۔

"صرف راستے پر توجہ مرکوز کیجیے"

ظہرانے کے بعد ملکہ نے سعودی ولی عہد سے سیر کی خواہش کا پوچھا جس کی تائید سابق وزیر خارجہ سعود الفیصل نے بھی کی تو شہزادہ عبداللہ آمادہ ہوگئے۔ محل کے سامنے "لینڈ روور" لائی گئی۔ سعودی ولی عہد بڑھ کر آگے کی نشست پر براجمان ہوگئے اور مترجم پچھلی نشست پر بیٹھ گیا۔ اچانک ملکہ برطانیہ نے آگے بڑھ کر ڈرائیونگ کی نشست سنبھال لی اور گاڑی چلانا شروع کردی۔ اس دوران وہ شہزادہ عبداللہ سے بات چیت کرتی رہیں اور ساتھ ہی تنگ راستے پر گاڑی کی رفتار بڑھاتی رہیں۔

باتوں اور تیز رفتاری کے جاری رہنے پر سعودی ولی عہد نے مسکراتے ہوئے ازراہ مذاق مترجم سے کہا کہ وہ ملکہ الزبتھ سے عرض کرے کہ "ملکہ عالیہ گاڑی کی رفتار دھیمی فرما کر صرف راستے پر توجہ مرکوز کیجیے"۔ یہ بات ملکہ برطانیہ کے سعودی عرب میں سفیر نے بتائی۔ ملکہ الزبتھ برطانوی تخت کی 1200 سالہ تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک اقتدار سنبھالنے والی شخصیت ہیں۔ "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق انہوں نے تمام عرب ریاستوں کی سامراجی طاقتوں سے آزادی کو بھی دیکھا۔ اس کے علاوہ 1952 میں اپنی تاج پوشی کے بعد سے اب تک ملکہ الزبتھ نے 12 امریکی صدور کا زمانہ دیکھا جنہوں نے ملکہ سے ملاقات کی اور ملکہ نے مختلف دوروں میں ان سب سے ملاقات کی۔ اگر زندگی نے موقع دیا تو وہ آئندہ جنوری میں اس فہرست میں ترہویں امریکی صدر کا زمانہ بھی دیکھ لیں گی۔

اپنی تاج پوشی کے ساتھ ہی الزبتھ دوم برطانیہ کے علاوہ دنیا بھر میں برطانیہ کی 15 سابقہ کالونیوں کی بھی آئینی ملکہ بن گئیں۔ ان 16 ریاستوں کے نام یہ ہیں : کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جمیکا، بارباڈوس، گرینیڈا، جزیرہ سولومن، سینٹ لوسیا، اینٹیگا اور باربوڈا، بہاماس، ٹووالو، پاپوا نیوگنی، بیلیز، سینیٹ وینسنٹ و گریناڈائنز، سینٹ کیٹز وناویس۔

ملکہ الزبتھ کی تصویر برطانیہ اور دولت مشترکہ کے 33 ملکوں میں 23 ارب سے زیادہ کاغذی اور دھاتی کرنسیوں پر چھپی ہوئی یا کندہ ہے۔ اب تک 220 ارب سے زیادہ ڈاک ٹکٹ جاری ہوچکے ہیں جن پر ملکہ کی تصویر بنی ہوئی تھی۔

1954 میں 13 عرب ممالک کے دوروں کا آغاز

ملکہ الزبتھ دوم اپنے دور اقتدار میں چھ ملکوں کے سوا بقیہ تمام عرب ریاستوں کا دورہ کرچکی ہیں۔ یہ چھ ممالک لبنان، فلسطين، شام، عراق، مصر اور موریتانیہ ہیں۔ اقتدار کا عرش سنبھالنے کے بعد کسی بھی عرب ملک کا پہلا دورہ انہوں نے یمن کا کیا تاہم یہ غیرسرکاری دورہ تھا۔ 27 اپریل 1954 کو ان کا یہ دورہ "عدن" تک محدود رہا جہاں وہ اپنے شوہر شہزادہ فلپ کے ساتھ گئی تھیں۔

بعد ازاں اسی سال یکم مئی کو انہوں نے لیبیا کا ایک روزہ دورہ کیا جو مصر کی سرحد کے نزدیک واقع شہر طبرق تک محدود رہا۔ دورے میں ان کا بھرپور اور پرتپاک استقبال لییا کے سابق فرماں روا شاہ ادریش السنوسی نے کیا۔

سرکاری طور پر انہوں نے کسی بھی عرب ملک کا سب سے پہلا دورہ 1965 میں سوڈان کا کیا۔ اس دورے کی دعوت سوڈانی صدر ابراہیم عبود نے ایک سال قبل اپنے دورہ برطانیہ کے دوران دی تھی۔

اس کے بعد ملکہ الزبتھ نے 1979 میں كويت، بحرين، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور سلطنت عمان کا دورہ کیا۔ اگلے برس 1980 میں وہ تیونس، الجزائر اور مراکش کے دورے پر گئیں اور پھر 1984 میں اردن پہنچیں۔ 2010ء میں انہوں نے امارات اور سلطنت عمان کا دوسری مرتبہ دورہ کیا۔ اس سال کے بعد ملکہ الزبتھ دوم کا طیارہ کسی عرب ملک کے ہوائی اڈے پر نہیں اترا۔

الزبتھ کے ملکہ بننے کے وقت عرب دنیا کی صورت حال

1952ء میں شہزادی الزبتھ نے برطانیہ کے اقتدار کا عرش سنبھالا تو عرب دنیا کے دو فرماں روا، ایک امیر اور دو سربراہان اس دنیا کی آبادی کا حصہ نہیں تھے۔ ان میں عمان میں 1962 میں پیدا ہونے والے اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ الثانی، ان کے مراکشی ہم منصب محمد السادس جنہوں نے رباط میں 1963 میں آنکھ کھولی، شام کے دارالحکومت دمشق میں 1965 میں پیدا ہونے والے بشار الاسد، امیر قطر الشیخ تمیم بن حمد بن خلیفہ آل ثانی جو 1980 میں دوحہ میں پیدا ہوئے اور لیبیا کے وزیراعظم فایز السراج جو 1960 میں طرابلس میں پیدا ہوئے، یہ تمام شامل ہیں۔

جہاں تک عرب دنیا کا تعلق ہے تو الزبتھ کے ملکہ بننے کا زمانہ آج کے وقت سے بہت مختلف تھا۔ اس وقت عرب دنیا میں کوئی شدت پسند تحریک نہیں تھی۔ القاعدہ تنظیم کے بانی اور سابق سربراہ اسامہ بن لادن اس وقت تک آنکھ نہیں کھولی تھی۔ ان کے جانشیں قاہرہ میں پیدا ہونے والے ایمن الظواہری کی عمر اس وقت سال بھر کے قریب تھی جب کہ 1952 میں مصر کی کل آبادی 2.25 کروڑ کے لگ بھگ تھی۔

جہاں تک داعش کے خلیفہ ابوبکر البغدادی کا تعلق ہے تو وہ ملکہ الزبتھ کی تاج پوشی کے 19 برس بعد دنیا میں آیا۔

19 نومبر 1954 کو قاہرہ میں پیدا ہونے والے موجودہ مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی عمر اس وقت ایک سال اور دس ماہ تھی۔ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی تو 7 ماہ کے شیر خوار بچے تھے۔ تاہم فلسطینی صدر محمود عباس اس وقت صفد شہر میں 17 برس کے جواں سال طالب علم تھے جب کہ ان سے عمر میں پانچ برس چھوٹے سلطنت عمان کے سلطان قابوس صلالہ شہر کے ایک اسکول میں زیرتعلیم تھے۔