.

روسی وزیر کی جینز اور جوتوں پر منگولیا میں اضطراب!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس اور چین کے درمیان واقع منگولیا ایسی ریاست ہے جہاں شاذ و نادر ہی کوئی اہم شخصیت سرکاری دورے پر آتی ہے۔ ویسے تو منگولیا میں کوئی قابل کشش چیز نہیں مگر جب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف جیسی کوئی اہم شخصیت یہاں کا دورہ کرتی ہے تو حکام خوشی کے مارے پھولے نہیں سماتے اور آنے والے مہمان کے لیے سرخ قالین بچھا کر امپیریئل گارڈ آف آنر پیش کیا جاتا ہے۔ گزشتہ ہفتے روسی وزیر خارجہ کا طیارہ دارالحکومت Ulan Bator کے چنگیز خان ایئرپورٹ پر اترا تو ان کے استقبال کے لیے بھی 20 میٹر سے بھی طویل قالین بچھا کر پرجوش استقبال کی گیا۔

تاہم لاؤروف نے اپنے رویے سے منگولیا کے حکام کو حیران کردیا۔ روسی وزیر خارجہ بے التفاتی کے ساتھ طیارے سے اترے تو انہوں نے نیلے رنگ کی "جينز" اور کتھئی رنگ کے جوتے پہنے ہوئے تھے جیسے مرمت کرنے والے کاریگر پہنتے ہیں۔ ان کی نیلے رنگ کی قمیص گردن کے پاس سے کھلی ہوئی تھی گویا کہ وہ خشکی میں شکار پر نکلے ہوئے ہیں۔ اس تمام صورت حال پر منگولیئن مضطرب بھی ہوئے اور غیر مطمئن بھی۔ ان کی اس پریشانی کی خبر اڑتے اڑتے ٹوکیو میں شائع ہونے والے انگریزی جریدے The Diplomat تک پہنچی اور پھر وہاں سے اس کو گونج بقیہ ذرائع ابلاغ تک پہنچ گئی۔ جریدے کی ویب سائٹ پر "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے برطانوی کارڈف یونی ورسٹی میں بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر Sergey Radchenko کی تحریر دیکھی جس میں انہوں نے لاؤروف کی جانب سے اپنے میزبانوں کے اکرام کا لحاظ نہ کرنے کا ذکر کیا ہے۔

امپیریئل گارڈز اور اپنے ہم منصب وزیر سے بے اعتنائی

خیال کیا جاتا ہے کہ اس نوعیت کی خبروں کی تفصیلات کی کمی کی وجہ سے وہ چھوٹی ہوں گی یعنی زیادہ سے زیادہ 300 الفاظ پر مشتمل ہوسکتی ہیں۔ تاہم اس خبر کے لکھاری رادشنکو نے واقعے کے لیے 670 الفاظ مختص کر دیے۔

رادشنکو نے یاد دہانی کرائی کہ لاؤروف کے لیے ممکن تھا کہ وہ اپنے خصوصی طیارے کے اترنے سے پہلے ایسا لباس پہن لیتے جو ان کے اور سرکاری دورے کی دعوت دینے والے ان کے میزبانوں کے علاوہ منگولیا کے امپیریئل گارڈ آف آنر کے شایان شان ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک کے وزیر خارجہ Purevsuren Lundeg کے مرتبے کے لائق ہوتا جنہوں نے ہوائی اڈے پر لاؤروف کا استقبال کیا۔ انگریزی جریدے میں دی گئی تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ منگولیئن وزیر خارجہ کا چہرہ غصے اور شرمندگی کے شدید احساس سے سرخ ہوگیا۔

بعد ازاں لونڈگ نے اپنے روسی ہم منصب کو گھر میں عشایے پر دعوت دی اور منگولیا کے قومی لباس میں مہمان کا استقبال کیا۔ اس سلسلے میں "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نےeagl.mn نیوز ویب سائٹ سے دو تصاویر حاصل کیں۔ پہلی تصویر میں ایئرپورٹ پر دیکھا جاسکتا ہے کہ لاؤروف نے سرخ قالین کے دونوں جانب کھڑے گارڈز کی طرف دیکھنا بھی گوارہ نہ کیا۔ وہ اپنے منگولیئن ہم منصب کی طرف بھی کوئی توجہ نہیں دے رہے اور ایسا ظاہر کررہے ہیں گویا کہ وہ لاؤروف کے کوئی ملازم ہیں جب کہ منگولیئن وزیر خارجہ اپنے ہاتھ کے اشارے کے ذریعے امپیریئل گارڈز کی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں۔ ایسا نظر آتا ہے کہ لاؤروف نے اپنی جینز میں چمڑے کی بیلٹ بھی نہیں لگائی بلکہ غالبا اس کو ایسے ہی چھوڑ دیا۔

منگولیا کی قسمت اوباما کے ساتھ بھی اچھی نہ رہی

درحقیقت منگولیا کا نصیب اچھا نہیں ہے کہ وہاں کوئی سمندر بھی نہیں اس کی جغرافیائی علاحدگی کے زخم پر مرہم کا کام دے سکے۔ اس کا رقبہ مصر اور عراق کے مجموعی رقبے سے بھی زیادہ ہے تاہم آبادی 30 لاکھ کے قریب ہے۔ دنیا کا دوسرا بڑا صحرا یہاں واقع ہے۔ "جوبى" نامی اس صحرا کا رقبہ 13 لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔

منگولیا کے ساتھ غیر سفارتی درجے کا سلوک کرنے میں امریکی صدر باراک اوباما بھی کسی طور پیچھے نہیں ہیں۔ ستمبر 2011 میں اوباما کی جانب سے کیے جانے والے فعل کو دنیا بھر میں ٹی وی اسکرینوں پر کروڑوں لوگوں نے دیکھا۔ موقع یہ تھا کہ متعدد عالمی سربراہان اقوام متحدہ کی عمارت میں حسب معمول تاریخی تصویر اتروانے کے لیے جمع ہوئے۔ تصویر کے وقت اچانک اوباما نے دایاں ہاتھ اٹھا کر اپنے پیچھے کھڑے ایک ملک کے صدر کا چہرہ چھپا دیا۔

اوباما کی ہتھیلی سے جس سربراہ کا چہرہ چھپا تھا وہ منگولیا کے صدر Tsakhiagiin Elbegdorj کے سوا کوئی اور نہ تھا۔ اس منظر کو "العربیہ ڈاٹ نیٹ" پر دی گئی تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے۔