.

ترک پارلیمان میں آق اور کرد نواز جماعت کے ارکان گتھم گتھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کی پارلیمان میں حکمراں جماعت آق اور کرد نواز حزب اختلاف کے ارکان یورپی یونین کے ساتھ غیر قانونی تارکین وطن کو روکنے سے متعلق معاہدے پر قانون سازی کے دوران آپس میں گتھم گتھا ہوگئے جس کے بعد پارلیمان کا اجلاس آیندہ سوموار تک ملتوی کردیا گیا ہے۔

آق کے ارکان اور کردنواز حزب اختلاف کے ارکان کے درمیان ترکی کے کرد اکثریتی جنوب مشرقی علاقوں میں کرد جنگجوؤں کے خلاف فوج کی کارروائی کے تنازعے پر لڑائی شروع ہوئی تھی۔وہ ایک دوسرے پر پِل پڑے، انھوں نے ایک دوسرے کو گھونسے مارے اور پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی۔

اس دھینگا مشتی کے بعد پارلیمان کے قائم مقام اسپیکر نے بدھ کی شام ایوان کی مزید کارروائی سوموار تک مؤخر کرنے کا اعلان کردیا اور کہا کہ اس طرح کی صورت حال میں پارلیمان کا مکمل اجلاس دوبارہ نہیں بلایا جاسکتا ہے۔

پارلیمان میں جمعہ اور ہفتے کے روز ارکان نے یورپ میں ترکوں کے بغیرا ویزا سفر سے متعلق قانون سازی پر غور کرنا تھا۔ترک شہریوں کے لیے یہ سہولت ترکی اور یورپی یونین کے درمیان غیرقانونی تارکین وطن کی یورپ میں آمد کو روکنے سے متعلق معاہدے کا اہم حصہ ہے۔

یورپی یونین 4 مئی کو ترکوں کے تنظیم کے رکن ممالک میں بغیر ویزا داخلے سے متعلق تجویز پر غور کرے گی۔تنظیم کی بعض رکن ممالک اس کی سخت مخالفت کررہے ہیں۔ تاہم یورپی یونین کا کہنا ہے کہ ترکی نے طے شدہ 72 معیارات میں سے نصف سے زیادہ پر مکمل عمل درآمد کردیا ہے اور اس کی شرائط میں کوئی نرمی نہیں کی جائے گی۔

پارلیمان میں کردنواز پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی کی رکن فرحت انچو کے ایک بیان کے بعد طرفین کے درمیان تند وتیز جملوں کا تبادلہ شروع ہوگیا تھا۔انھوں نے کہا تھا کہ جنوب مشرقی علاقوں میں کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے جنگجوؤں کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران عام شہری بھی مارے جارہے ہیں۔

واضح رہے کہ علاحدگی پسند پی کے کے کے جنگجوؤں نے ڈھائی سال کی جنگ بندی کے بعد گذشتہ سال جولائی میں دوبارہ حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھا لیے تھے۔اس کے ردعمل میں ترک سکیورٹی فورسز نے ان کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کردی تھی۔ تب سے اب تک ہزاروں کرد جنگجو ،سکیورٹی فورسز کے سیکڑوں اہلکار اور عام شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔