.

دنیا بھر میں آزادی صحافت 12 برس کی نچلی ترین سطح پر !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی تنظیم "فریڈم ہاؤس" کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں آزادی صحافت گزشتہ 12 برس کی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔ تنظیم نے بتایا کہ مسئلے کا بڑا حصہ بے جا طرف داری، تقطیب اور صحافیوں پر حملوں اور ہراساں کیے جانے کی شرح میں اضافے سے وابستہ ہے۔

مشرق وسطی میں صحافیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیاں، مکسیکو میں ہراساں کیا جانا اور ہانگ کانگ میں آزادی اظہارے کے حوالے سے اندیشے یہ تمام امور مسائل میں نمایاں طور شامل ہیں۔

دنیا بھر میں آزادی صحافت سے متعلق "فریڈم ہاؤس" کی سالانہ رپورٹ میں 199 ممالک اور خودمختار علاقوں کو شامل کیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق 2015ء کے دوران 62 ملکوں میں آزادی صحافت کی صورت حال اطمینان بخش رہی، 71 ملکوں میں صحافت کی آزادی جزوی رہی جب کہ 66 ممالک ایسے ہیں جہاں ذرائع ابلاغ کو آزادی حاصل نہ تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ترکی، بنگلہ دیش، گیمبیا، سربیا، برونڈی اور یمن میں آزادی صحافت میں بڑی حد تک کمی واقع ہوئی۔

آزادی صحافت میں نچلے ترین درجوں پر شمالی کوریا، ترکمانستان، ازبکستان، جزیرہ نما کریمیا، اریٹیریا، کیوبا، بیلاروس، جمہوریہ گنی، ایران اور شام رہے۔

دوسری جانب اس درجہ بندی میں ابتدائی پوزیشنوں پر ناروے، بیلجیئم، فن لینڈا، ہالینڈ اور سوئیڈن ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں صحافیوں کو بدترین صورت حال کا سامنا ہے اس کی وجہ حکومتوں اور ملیشیاؤں کی جانب سے درپیش دباؤ ہے۔

"داعش" تنظیم اور دیگر شدت پسند جماعتیں دوسری نوعیت کے دباؤ کا استعمال بھی کرتی ہیں اور ان کی جانب سے میڈیا پر شدید حملوں کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے۔