ایران کی نئی پارلیمان میں علماء سے زیادہ خواتین کی تعداد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی پارلیمان کے نومنتخب اراکین اس ماہ جب حلف لیں گے تو ان میں علماء کے مقابلے میں خواتین ارکان کی تعداد زیادہ ہوگی۔

ایران میں پارلیمانی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے نتائج سامنے آگئے ہیں اور صدر حسن روحانی کے اتحادی اصلاح پسند اور اعتدال پسند بھاری اکثریت سے جیت گئے ہیں جبکہ سخت گیر قدامت پسند 2004ء کے بعد پہلی مرتبہ انتخابات میں شکست سے دوچار ہوگئے ہیں۔

انتخابات کے دوسرے مرحلے میں جمعہ کو 290 نشستوں پر مشتمل مجلس خبرگان (اسمبلی ) کی 68 نشستوں پر پولنگ ہوئی تھی۔ان حلقوں میں انتخابات کے پہلے مرحلے میں امیدوار کل ڈالے گئے ووٹوں کا 25 فی صد ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے۔انتخابی نتائج کے مطابق 17 خاتون امیدواروں نے بھی کامیابی حاصل کی ہے اور ان کی اب نئی اسمبلی میں علماء کے مقابلے میں ایک نشست زیادہ ہوگئی ہے۔

1979ء میں ایران میں انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ علماء بہت کم تعداد میں مجلس خبرگان کے ارکان منتخب ہوئے ہیں۔انقلاب کے بعد پہلی اسمبلی میں منتخب علماء کی تعداد 164 تھی۔تاہم اس کے بعد سے اسمبلی کے لیے منتخب ہونے والے علماء کی تعداد بتدریج کم ہوتی رہی ہے۔

ایران میں انقلاب کے بعد دوسری پارلیمان میں علماء اراکین کی تعداد 153 تھی، تیسری میں 85 ،چوتھی میں 67 اور پانچویں میں 52 تھی۔سبکدوش ہونے والی اسمبلی میں علماء کی تعداد 27 تھی۔؛نئی پارلیمان میں منتخب ہونے والے 16 علماء ارکان میں سے 13 قدامت پسندانہ پس منظر کے حامل ہیں اور تین اصلاح پسند ہیں۔

پارلیمان کی نومنتخب 17 خواتین ارکان میں سے قریباً سبھی اصلاح پسند ہیں۔وہ پارلیمان کے کل اراکین کی تعداد کا نو فی صد ہیں۔سبکدوش ہونے والی اسمبلی میں خواتین کی تعداد نو تھی اور وہ قدامت پسند بازو سے تعلق رکھتی تھیں۔اس سے قبل زیادہ سے زیادہ چودہ خواتین پارلیمان کی منتخب رکن رہ چکی تھیں۔

انتخابی نتائج کے مطابق نئی پارلیمان میں 133 اصلاح پسند ہوں گے۔اس طرح وہ 13 ارکان کی کمی سے سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔قدامت پسند ارکان کی تعداد 125 ہے اور باقی نشستوں پر آزاد اور اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے امیدوار جیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں