.

شامیوں کے بغیر فیس بک.. کھاتے بند کرنے کی احتجاجی مہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پر بھرپور شامی مہم کے نتیجے میں ہیش ٹیگ " #حلب_تحترق " (حلب جل رہا ہے) عالمی طور پر سرفہرست آگیا ہے۔ 7 لاکھ سے زیادہ ٹوئیٹس کے ساتھ یہ اس وقت دنیا بھر میں مقبول ترین ہیش ٹیگ بن چکا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹوں پر متعدد مہم چلائی جا رہی ہیں۔ ان میں ہیش ٹیگ کی تیاری اور شامیوں کے کھاتوں پر لال رنگ کا قبضہ (اہل حلب کے لہو اور آگ کی طرف اشارہ) نمایاں ہیں۔ اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر متحرک عربوں کو مصری اور لبنانی جانب سے بھرپور معاونت حاصل ہے جن کا موقف ہے کہ حلب میں جو کچھ ہورہا ہے اس پر خاموش نہیں رہا جاسکتا۔

اب تک متعارف کرائی گئی متعدد مہموں میں سے ایک مہم میں کہا گیا ہے کہ بشار الاسد اور روس کی جانب سے قتل عام پر فیس بک انتظامیہ کی خاموشی پر احتجاج کرتے ہوئے 24 گھنٹوں کے لیے فیس بک کا بائیکاٹ کیا جائے اور اس دوران کھاتوں کو بند رکھا جائے۔ بائیکاٹ کا آغاز حلب کے مقامی وقت کے مطابق اتوار کی رات 12 بجے ہوگا۔ واضح رہے کہ فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے پیرس واقعات کے بعد اپنی پروفائل پکچر میں فرانسیسی پرچم لگا لیا تھا۔

فیس بک انتظامیہ کی خاموشی نے جذبات کو مشتعل کردیا ہے جب کہ دوسری طرف "مصری اور شامی" کارکنان نے ٹھان لی ہے کہ وہ حلب کی طرف فیس بک کی توجہ مبذول کرا کر ہی چھوڑیں گے۔

سوشل میڈیا پر متحرک کارکنان نے فیس بک کے بانی اور مالک زکربرگ کی تصویر پر بہت زیادہ تبصرے تحریر کیے ہیں۔ ان تبصروں کا محور حلب اور شام کے علاوہ شامی حکومت اور روس کے جرائم کی طرف توجہ نہ کرنے پر سوالات اٹھانے کے ساتھ ساتھ ملامت کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔ بعض تبصروں میں زور دیا گیا ہے کہ صرف یورپ میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں خونریز واقعات کو انسانیت کی بنیاد پر دیکھا جانا چاہیے۔

اس دوران مارک زکربرگ کی جانب سے ان تبصروں کے جواب میں وعدہ کیا گیا ہے کہ فیس بک ویب سائٹ حلب میں ہونے والے واقعات کی کوریج دے گی اور اس سلسلے میں "اقوام متحدہ کے ساتھ رابطے رکھا جائے گا"۔ فیس بک کے بانی نے اس یاد دہانی پر تبصرہ کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔