.

ایران میں ''غیرملکی شہداء'' کے خاندانوں کو شہریت ملے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پارلیمان نے ایک قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت حکومت دوسرے ممالک میں اسلامی جمہوریہ کی گماشتہ جنگ (پراکسی وار) لڑتے ہوئے ہلاک ہونے والے غیرملکیوں کے خاندانوں کو شہریت دے سکے گی۔

ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا کے مطابق ''پارلیمان کے ارکان نے حکومت کو ایران،عراق جنگ (1980-1988) اور اس کے مابعد بیرون ملک لڑتے ہوئے شہید ہونے والے غیرملکیوں کی بیواؤں ،بچوں اور والدین کو ایرانی شہریت دینے کی اجازت دے دی ہے''۔

ایرنا کے مطابق ایسے لوگوں کو درخواست موصول ہونے کے بعد زیادہ سے زیادہ ایک سال کے عرصے میں شہریت دی جانی چاہیے۔واضح رہے کہ ایران کی نومنتخب پارلیمان کی مئی کے آخر میں حلف برداری تک موجودہ پارلیمان کام کرتی رہے گی۔

ایران ،عراق جنگ کے دوران ایران کی جانب سے لڑنے والے غیرملکیوں کے اعداد وشمار دستیاب نہیں ہیں۔البتہ افغان شہری اورعراقیوں کا ایک گروپ ایرانی فورسز کے شانہ بشانہ صدام حسین کی حکومت کے خلاف لڑتا رہا تھا۔

ایرانی پارلیمان کے منظور کردہ قانون کا اطلاق افغانستان اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے ''رضا کاروں'' پر ہوسکے گا جو اس وقت شام اور عراق میں داعش اور النصرۃ محاذ کے جہادیوں کے خلاف ایران کی گماشتہ جنگ لڑرہے ہیں۔

ایران شامی صدر بشارالاسد کا زبردست حامی اور مؤید ہے اور وہ ان کی حکومت کو بچانے کے لیے مالی اور اسلحی امداد مہیا کررہا ہے۔ایرانی فورسز کے تحت افغان رضا کاروں پر مشتمل فاطمیّون بریگیڈ شام اور عراق میں داعش ایسے انتہا پسند گروپوں سے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے لڑرہا ہے۔

ایران اپنے ریگولر فوجیوں کی شام یا عراق میں موجودگی کی تردید کرتا چلا آرہا ہے۔البتہ اس کے کمانڈرز اور جرنیل ''فوجی مشیر'' کے طور پر ان دونوں ملکوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور القدس فورس کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی عراق اور شام میں موجودگی کی اطلاعات وقفے وقفے سے سامنے آتی رہتی ہیں۔

ایرانی میڈیا میں شام اور عراق میں جاری لڑائی میں ہلاک ہونے والے افغان اور پاکستانی رضاکاروں کی خبریں باقاعدگی سے رپورٹ ہوتی رہتی ہیں۔ان کی میتیں وہاں سے واپس لا کر ایران ہی میں دفن کی جاتی ہیں۔اس وقت ایران میں تیس لاکھ سے زیادہ افغان رہ رہے ہیں۔ان میں دس لاکھ سے زیادہ قانونی مہاجرین ہیں۔