.

سعودی عدالتوں کے ذریعے 517 خواتین کی پسند کی شادیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت انصاف کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سال کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں 517 خواتین نے عدالتوں کی مدد سے پسند کی شادیاں کی ہیں۔عدالتوں سے شادی کے لیے رجوع کرنے والے ان خواتین میں 501 غیر ملکی خواتین ہیں اور صرف 16 سعودی شہری ہیں۔

وزارت انصاف کے ایک ذریعے کے مطابق ''عدلیہ کی مدد سے شادی کرنے والی 14 سعودی خواتین کا تعلق صوبہ مکہ سے ہے اور دو مشرقی صوبے سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ اس سال کے دوران مملکت کے دوسرے صوبوں میں عدل کے کوئی کیس دائر نہیں کیے گئے ہیں۔

عدل کے کیس سے مراد خواتین کی ایسی قانونی چارہ جوئی ہے جس میں وہ اپنے سرپرست اور ولی (گارڈین) کے خلاف اپنی شادی میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام عاید کرتی ہیں اور عدالت سے انصاف کی طالب ہوتی ہیں۔اس ذریعے کا کہنا ہے کہ سعودی عدالتیں اس طرح کے کیسوں کی سماعت کے دوران قانونی طریق کار پر سخت سے کاربند ہوتی ہیں۔

اگر کوئی عورت مقامی عدالت میں اپنے سرپرست کے خلاف عدل کی درخواست دائر کرتی ہے تو جج سب سے پہلے اس عورت اور اس کے سرپرست کے درمیان مصالحت کی کوشش کرتا ہے۔اگر جج ان کے درمیان مصالحت میں ناکام رہے تو پھر وہ ولی سے یہ کہے گا کہ وہ عورت کی ولایت اپنے خون کے کسی اور رشتے دار کو منتقل کردے۔

اس ذریعے نے مزید بتایا ہے کہ اگر سرپرست اس تجویز کو مسترد کردے تو پھر جج بہ ذات خود ہی عورت کا ولی بن جاتا ہے اور وہ اس عورت کو اجازت دے گا کہ وہ اپنی پسند کے مرد سے شادی کرسکتی ہے۔جب عدالت میں خاتون اپنے ولی کی تبدیلی کا تقاضا کرتی ہے تو بالعموم اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لیے درخواست دینے والے اپنی تجویز سے دستبردار ہوجاتے ہیں۔تاہم سرپرست یا ولی کو خاتون کی پسند کی شادی میں حائل ہونے کا اختیار نہیں ہے۔

سعودی ضابطہ قوانین کی دفعہ 33 کے تحت سول عدالتوں کو اس بات کا مجاز بنایا گیا ہے کہ وہ خواتین کے ولی کے بغیر شادی سے متعلق کیسوں کی سماعت کریں اور ان کی شادی میں مدد دیں یا انھیں پسند کی شادی سے روکنے والے سرپرستوں کے خلاف کیسوں کی سماعت کریں۔