.

مشرقِ وسطیٰ کی عدالتوں میں رشوت کا دور دورہ :ایمنسٹی

شہریوں کو سرکاری خدمات کے حصول کے لیے رشوت کا سہارا لینا پڑتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل نے منگل کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے نوممالک میں اوسطاً ہر تیسرے شخص کو سرکاری خدمات تک رسائی کے لیے کسی نہ کسی شکل میں رشوت دینا پڑتی ہے۔ان ممالک کی عدالتوں میں حالت اس سے ابتر ہے اور وہاں رشوت ستانی کا دور دورہ ہے۔

ایمنسٹی نے ان نو ممالک میں قریباً گیارہ ہزار افراد کے انٹرویوز کیے ہیں۔یعنی ہر ملک میں قریباً بارہ سو افراد سے سروے کیا گیا ہے۔جنگ زدہ یمن میں صورت حال سب سے زیادہ خراب ہے اور وہاں سے تعلق رکھنے والے 77 فی صد رائے دہندگان نے بتایا ہے کہ انھیں سرکاری خدمات (سروسز) تک رسائی کے لیے رشوت دینا پڑتی ہے۔

یمن میں مارچ 2015ء میں سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے حوثی باغیوں کے خلاف حملوں سے قبل یہ سروے کیا گیا تھا۔مصر ،سوڈان اور مراکش میں جن افراد سے سروے کیا گیا،ان میں سے پچاس فی صد نے بتایا کہ انھیں سرکاری خدمات کے حصول کے لیے رشوت دینا پڑی تھی۔

ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل نے لبنان ،الجزائر ،تیونس ،اردن اور فلسطینی علاقوں میں بھی شہریوں سے سروے کیا ہے۔ان ممالک میں 2014ء اور 2015ء میں مختلف اوقات کے دوران لوگوں سے براہ راست انٹرویوز کیے گئے تھے۔

تنظیم کے سربراہ ہاؤزے یوگاز کا کہنا ہے کہ رشوت ستانی کی روک تھام میں ناکامی سے لوگوں کے انسانی حقوق پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔انھوں نے اس رپورٹ کے ساتھ جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''یوں لگ رہا ہے جیسے عرب بہار کبھی آئی ہی نہیں تھی''۔

سروے کے نتائج کے مطابق اوسطاً ہر تین میں سے ایک شخص کو عدالتوں میں کام کی صورت میں رشوت دینا پڑی تھی۔ہر چوتھے آدمی نے پولیس کو رشوت دی تھی۔ان میں سے قریباً نصف افراد کو کئی کئی مرتبہ پولیس اور عدالتوں سے کام نکلوانے کے لیے رقوم دینا پڑی تھیں۔ سروے کیے گئے افراد میں سے ہر پانچ میں سے ایک شخص نے بتایا کہ اس کو سرکاری طبی خدمات کے حصول کے لیے رشوت ادا کرنا پڑی ہے۔

مراکش میں یہ شرح 38 فی صد تھی۔ٹرانسپرینسی انٹرنیشنل نے ایک شخص کے کیس کا حوالہ دیا ہے۔اس نے اس واچ ڈاگ کی مقامی انسداد رشوت ستانی ہاٹ لائن سے ایک نرس کے 60 ڈالرز ادا کرنے کے مطالبے کے بعد رابطہ کیا تھا۔اس نرس نے اس شخص کی جزوی نابینا بیٹی کے دماغ کے فوری سکین کے لیے اسپتال کی فیس کے علاوہ 60 ڈالرز مانگے تھے۔

اس کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اٹارنی جنرل کے دفتر میں کال کرے۔اس کے بعد دو انڈرکور افسر اس کے ساتھ اسپتال میں گئے اور انھوں نے اس نرس کو گرفتار کر لیا تھا۔پھر عدالت نے اس کو دو ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔

لبنان میں سروے کیے گئے افراد میں سے قریباً 30 فی صد نے بتایا کہ انھوں نے پبلک سروسز کے لیے رشوت دی تھی۔92 فی صد کا کہنا تھا کہ کرپشن بڑھ گئی ہے۔تاہم مشرق وسطیٰ میں کرپشن کی ایک ایسی بھی قسم ہے جس کو کسی پیمانے پر جانچا نہیں جا سکتا ہے اور یہ اقربانوازی یا عربی میں واسطہ ہے۔کسی ملازمت کے حصول یا سرکاری خدمات تک رسائی کا انحصار کسی فرد کے واسطے یا ارباب اقتدار تک رسوخ کے حامل کسی شخص سے تعلق پر ہوتا ہے۔