.

35% سعودی خواتین سیزیریئن آپریشن کا سہارا لیتی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خواتین کے امراض اور ولادت سے متعلق طبی ماہر ڈاکٹر ماہر رستم نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی خواتین میں بنا کسی طبی غیرموافق علامت کے، سیزیریئن آپریشن کو اختیار کرنے کا تناسب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حاملہ خواتین میں یہ شرح 40%‏ سے تجاوز کرسکتی ہے جب کہ سائنسی میدان میں ترقی کے پیش نظر عالمی سطح پر ان ولادتوں کی شرح 30% ہے۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر رستم نے بتایا کہ سیزیریئن آپریشن کے مطالبے میں اضافے کی اہم ترین وجوہات میں حاملہ خاتون کا درد زہ اور نارمل ولادت کے تکلیف دہ تجربات سے گزرنے کی خواہش نہ رکھنا، اس حوالے سے غیرضروری خوف کا شکار ہونا، طب کے شعبے میں بڑی پیش رفت اور سیزیریئن آپریشن کے بعد تناسلی نظام کی درستی کی ضرورت نہ ہونا شامل ہیں۔

ڈاکٹر رستم کا کہنا تھا کہ سیزیریئن آپریشن کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں۔ مثبت پہلوؤں میں درد زہ اور اس کی مدت سے آرام بالخصوص ممتاز حیثیت کی طبی ٹیم کی موجودگی، آپریشن کی جدیدیت اور آپریشن کے بعد دیکھ بھال میں پیش رفت کے سبب اور پھر یہ کہ اس آپریشن کی مدت 30 منٹ سے زیادہ نہیں ہوتی۔ تاہم جہاں تک اس کے منفی پہلوؤں کا تعلق ہے تو وہ بہت ہیں جن میں اہم ترین یہ کہ سیزیریئن آپریشن کے اخراجات نارمل ولادت سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔

ردعمل اور رواج

دوسری جانب سماجی ماہر فاطمہ القحطانی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ سعودی خواتین کے سیزیریئن آپریشن کا سہارا لینے کی اہم ترین وجوہات میں ولادت کی تکلیف کا خوف بالخصوص اگر عورت کے یہاں پہلی ولادت ہو یا پھر یہ خوف گزشتہ تکلیف دہ ولادت کا ردعمل ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بعض مرتبہ خوف کا کوئی سبب نہیں ہوتا۔ "آج کی خواتین درد زہ کے تجربے سے گزرنے کی خواہش نہیں رکھتی ہیں"۔ فاطمہ القحطانی کے مطابق "اس نوعیت کی ولادتوں میں بعض مرتبہ ایک اہم پہلو خواتین کے درمیان ایک دوسرے کی پیروی کے سوا کچھ نہیں ہوتا"۔

سعودی عرب میں سیزیریئن ولادتوں کے حوالے سے مکہ مکرمہ کا صوبہ مملکت میں سرفہرست رہا جہاں اس کی شرح 39 فی صد رہی۔ اس کے بعد دیہاتوں میں یہ شرح 18 فی صد رہی جب کہ تیل کی دولت سے مالامال مشرقی صوبے میں 6.84 فی صد سیزیریئن کیس ریکارڈ کیے گئے۔ وزارت صحت کی جانب سے جاری تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق پوری مملکت میں وزارت کے زیرانتظام ہسپتالوں میں ولادتوں کی مجموعی تعداد 262173 رہی۔ ان میں 71.34 فی صد یعنی 187017 ولادتیں نارمل تھیں جب کہ بقیہ 28.66 فی صد یعنی 75156 ولادتیں نارمل نہیں (سیزیریئن) تھیں۔

سال 2015 کے لیے مملکت میں حکومتی ہسپتالوں کے متعلق جاری سرکاری رپورٹ کے مطابق "سیزیریئن ولادتوں کا تعلق اب خود شکم مادر میں موجود جنین سے ہوگیا ہے، اس کی بیٹھنے والی پوزیشن سیزیریئن آپریشن کا سہارا لینے پر مجبور کردیتی ہے"۔ تاہم اس پوزیشن کے اسباب میں "ماں کا کم حرکت کرنا اور حاملہ خواتین کے لیے چہل قدمی کے فوائد کی طرف عدم توجہ" شامل ہیں۔