.

برلن:شامی مہاجرین عجائب گھروں میں عربی گائیڈ بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جنگ زدہ شام اور عراق سے بے گھر ہوکر جرمنی پہنچنے والے بعض مہاجرین اب عجائب گھروں میں عربی کے گائیڈ (رہ نما) بن گئے ہیں اور وہ وہاں آنے والے عرب زائرین کی ان کی اپنی زبان میں رہ نمائی کررہے ہیں۔اس طرح انھیں وقتی روزگار مل گیا ہے اور جرمنی میں سیاحت کو فروغ مل رہا ہے۔

شام کے مغربی صوبے ادلب سے تعلق رکھنے والے محمد الصبیح ایسے ہی ایک مہاجر ہیں جو برلن کے ایک بڑے عجائب گھر میں گائیڈ کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔وہ ادلب کے شہر معرۃ النعمان میں واقع مشہور عجائب گھر میں ملازم تھے جب جنگ کی آگ ان کے صوبے اور شہر تک پہنچ گئی تو وہ گذشتہ سال اگست میں مہاجرت کی زندگی اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے۔

چونسٹھ سالہ صبیح 23 دن کا دشوار گذار سفر کرنے کے بعد جرمنی پہنچے تھے۔انھوں نے بحر متوسط میں ربر کی ایک کشتی اور پھر بس پر لمبا سفر کیا۔گھنٹوں پیدل چلے، ٹرین میں بیٹھے اور بالآخر جرمنی پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔انھوں نے یہ خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ اس طرح جرمنی پہنچنے کے بعد انھوں ملازمت مل جائے گی اور وہ بھی مشہور بوڈے عجائب گھر میں۔

برلن کے اس مشہور عجائب گھر نے جب مہاجرین کے لیے عربی زبان کے گائیڈ مقرر کرنےکا منصوبہ بنایا تو صبیح نے بھی اس کے لیے درخواست دی اور انھیں منتخب کر لیا گیا۔انھوں نے بتایا کہ انھیں شام میں اپنے کام سے بہت محبت تھی۔اب آج برلن میں عجائب گھر میں گائیڈ بن کر ایسے محسوس ہورہا ہے ۔جیسے میری زندگی لوٹ آئی ہے۔

صبیح بوڈے میوزیم میں آنے والے شامی،عراقی اور عربی زبان بولنے والے دوسرے مہاجرین کو سیر کراتے ہیں اور انھیں وہاں رکھے نوادرات ،ثقافتی ورثے اور فن پاروں کی تاریخ اور اہمیت کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔

شامی مہاجرین کو جرمنی میں رچانے بسانے کے لیے رشین کلچرل ہیرٹیج فاؤنڈیشن نے ایک منفرد منصوبہ شروع کیا تھا۔یہ فاؤنڈیشن جرمن دارالحکومت میں واقع عجائب گھروں کے انتظام وانصرام کی ذمے دار ہے۔اس نے اپنے اس پروگرام کے لیے انیس مہاجرین کا انتخاب کیا تھا۔انھیں فن پاروں اور نوادرات سے متعلق ایک کورس کروایا گیا تا کہ وہ اپنے ساتھی مہاجرین کو ان کے بارے میں بتا سکیں۔

شامی حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی کفاہ علی دیب بھی برلن کے پرگامن عجائب گھر میں اب گائیڈ کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔انھوں نے بتایا :''انھیں یہ سکھایا گیا ہے کہ عجائب گھروں کی سیر کے لیے آنے والوں میں کیسے دلچسپی پیدا کی جاسکتی ہے تاکہ وہ ایک گھنٹے کی سیر کے دوران بور نہ ہوں''۔

دیب کو شامی صدر بشارالاسد کی حکومت نے چار مرتبہ جیل میں بند کیا تھا۔وہ بھی کسی طرح جان بچا کر جرمنی پہنچنے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔انھوں نے بتایا کہ وہ عجائب گھر میں آنے والے شامیوں اور عراقیوں کو اپنے یعنی عرب ثقافتی ورثے کے بارے میں بتاتی ہیں۔

ہر بدھ اور ہفتے کے روز زائرین کو عجائب گھر برائے اسلامی آرٹ ،مشرق قریب عجائب گھر ،مجسموں کے ذخیرے ، بیزنطین آرٹ میوزیم اور جرمن تاریخی عجائب گھر میں سے کسی ایک کی سیر کرائی جاتی ہے۔دسمبر کے بعد سے قریباً تین ہزار مہاجرین اپنے ثقافتی ورثے اور نوادرات کے بارے میں عجائب گھروں کی یہ ہفتہ وار سیر کرچکے ہیں۔

عجائب گھروں کی یہ سیر مہاجرین میں اتنی مقبول ہوئی ہے کہ اب منتظمین اس پروگرام کو توسیع دینے کے بارے میں غور کررہے ہیں اور اس کے تحت ''بین الثقافتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے گا۔ان میں جرمن عوام بھی شرکت کرسکتے ہیں''۔

واضح رہے کہ جرمنی نے صرف 2015ء کے دوران میں گیارہ لاکھ سے زیادہ تارکین وطن اور مہاجرین کو پناہ دی تھی۔اب وہ ان مہاجرین کو ہنگامی امدادی کام کے بعد معاشرے میں سمونے اور بسانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

ثقافتی ورثہ فاؤنڈیشن کے صدر ہرمن پرزینگر کا کہنا ہے کہ ''تارکین وطن اور مہاجرین کے لیے ''ملتاکا پراجیکٹ'' (ملنے کی جگہ) کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا گیا ہے۔اس میں عربی اور اسلامی آرٹ کے ذخیرے رکھے گئے ہیں۔یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے اہمیت کا حامل ہے جو مادر وطن کو کھونے کے بعد اب غیرملکی سرزمین میں آباد ہونے کے لیے کوشاں ہیں''۔

انھوں نے مزید بتایا کہ کرسچئین آرٹ بھی اس میں شامل ہے تاکہ نئے آنے والے لوگوں یہ پتا چل سکے کہ وہ جس معاشرے میں آئے ہیں ،اس کا اپنا کلچر کیا ہے تا کہ وہ اس کو سمجھ سکیں۔

جرمنی کے تاریخی میوزیم میں بیسویں صدی میں پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے دوران ہونے والی تباہی کے نمونے اور آثار رکھے گئے ہیں۔نئے جرمنی کی بنیاد ان ہی تباہ شدہ کھنڈرات پر رکھی گئی تھی اور آج وہ ٹیکنالوجی ،جمہوریت ،سیاسی آزادیوں ،انسانی حقوق اور ترقی میں دوسرے مغربی ملکوں سے کہیں آگے ہے۔ایک شامی کے بہ قول اس سے ہم یہ سیکھ سکتے ہیں کہ ایک تباہ شدہ ملک (شام) کی کیسے تعمیرنو کی جاسکتی ہے۔