فرانس :19 سالہ دوشیزہ کی پریسکوپ پر لائیو خودکشی

لڑکی اپنی عصمت ریزی کے بعد پیرس کے نواح میں ٹرین کے آگے کود گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس میں پراسیکیوٹرز نے ایک انیس سالہ دوشیزہ کی موبائل فون ایپلی کیشن پریسکوپ کو استعمال کرتے ہوئے لائیو خودکشی کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

یہ لڑکی پیرس کے نواح میں ایک ٹرین کے سامنے کود گئی تھی اور اس تمام منظر کو اپنے موبائل فون پر پریسکوپ کے ذریعے فلما بھی رہی تھی۔اس نے اپنی موت سے قبل اپنی ایک سہیلی کو ایک ٹیکسٹ پیغام بھیجا تھا جس میں اس نے انھیں خودکشی کے ارادے سے آگاہ کیا تھا۔

پراسیکیوٹر ایرک لالمنٹ نے بتایا ہے کہ اس نے پریسکوپ کے ذریعے اںٹرنیٹ کے صارفین کے لیے بیانات بھی جاری کیے تھے اور اپنے اقدام کی وضاحت کی تھی کہ وہ کیوں خودکشی کررہی ہے۔

ایک عدالتی ذریعے کا کہنا ہے کہ اس لڑکی نے ریپ کے بارے میں بھی گفتگو کی تھی اور عصمت ریزی کرنے والے جارح شخص کا نام بھی لیا تھا۔اس مرحلے پر اس دعوے کا بڑی احتیاط سے جائزہ لیا جارہا ہے۔

اس لڑکی نے منگل کے روز پیرس کے جنوب میں واقع ایگلی میں ایک اسٹیشن پر ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کی تھی۔پریسکوپ نے اس کی موت کے وقت کی ویڈیو ہٹا دی ہے لیکن خودکشی کے لیے آنے کے بعد کے بعض ویڈیو کلپ اب بھی یو ٹیوب پر موجود ہیں۔

وہ ایک کاؤچ پر بیٹھی نظر آرہی ہے۔سگریٹ سلگا رہی ہے اور یہ کہہ رہی ہے کہ ''یہ ویڈیو کسی مشہوری کے لیے نہیں بنائی جارہی ہے بلکہ لوگوں کے لیے بنائی جارہی ہے کہ وہ اپنے ردعمل کا اظہار کریں ،اپنے ذہنوں کو کھولیں۔اس کے علاوہ اس کا کوئی مقصد نہیں''۔

اس کے بعد ویڈیو ایک سیاہ سکرین پر کٹ کر جاتی ہے اور ایمرجنسی اہلکاروں کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔پھر پریسکوپ کے صارفین کے تشویش پر مبنی پیغامات بھی سکرین پر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں پریسکوپ کے کسی صارف نے ساڑھے چار بجے شام کے لگ بھگ اس ویڈیو کے چلنے کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔اس پر ہم الرٹ ہوگئے۔

واضح رہے کہ پریسکوپ اسمارٹ فون کی ایک ایپلی کیشن ہے۔اس کو بروئے کار لا کر صارفین اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ کے ذریعے لائیو ویڈیو بنا سکتے ہیں اور یہ ویڈیو بالعموم چوبیس گھنٹے تک قابل رسائی رہتی ہے۔براہ راست ویڈیو بنانے اور دکھانے کی سروسز کے ذریعے اس طرح کے ناگہانی واقعات عام ہوتے جارہے ہیں۔

گذشتہ ماہ امریکا کی ریاست اوہائیو میں ایک اٹھارہ سالہ لڑکی عدالت میں پیش ہوئی تھی۔اس پر اپنی سترہ سالہ سہیلی سے ایک انتیس سالہ شخص کی زیادتی کی فلم بنانے اور اس کو پریسکوپ پر براہ راست دکھانے کا الزام تھا۔اس کی وکیل نے عدالت کو بتایا کہ یہ لڑکی میرینہ لونینا پریسکوپ صارفین کے اس ویڈیو پر لائیکس کی وجہ سے پکڑی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں