.

دن بھر بھوک کے احساس کی 11 وجوہات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اگر آپ کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کو بہت کچھ کھانے پینے کے بعد بھی ہر دم بھوک کا احساس ستاتا رہتا ہے تو آپ کی اس حالت کی 11 ممکنہ وجوہات ہوسکتی ہیں۔

پہلے ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ انسان کے جسم میں دو ہارمون ہوتے ہیں جو بھوک اور شکم سیری کے ذمہ دار ہیں۔ پہلا ہارمون "گریلین" اور دوسرا " لیپٹن " کہلاتا ہے۔

صحت سے متعلق ویب سائٹ HEALTHISTA کے مطابق غذائی معالج "مے سمپکین" نے دن بھر بھوک کا احساس دلانے میں اہم کردار ادا کرنے والی 11 وجوہات پیش کی ہیں :

1 – نشاستہ دار غذا کا بکثرت استعمال

چاول، پاستا اور سفید روٹی جیسی نشاستہ درا غذا کا کثرت سے استعمال محض معدے میں پہنچنے پر ہی خون میں شکر کی مقدار بڑھا دیتا ہے اور اس کو ہضم کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ انسولین ہارمون شکر کی بلند سطح کو ختم کر دیتا ہے جس کے بعد جلد ہی بھوک کی کیفیت لوٹ آتی ہے۔ اس کے حل کے لیے سیمپکن شکرقندی اور کدو جیسی دیر سے جذب ہونے والی نشاستہ دار غذا لینے کی ہدایت کرتی ہیں۔

2 – لحمیات پر مشتمل طعام نہ کھانا

ہر بڑے کھانے کے طعام میں لحمیات کو شامل کرنے سے معدہ بھر جاتا ہے اور انسان زیادہ طویل عرصے تک شکم سیری محسوس کرتا ہے کیوں کہ لحمیات معدے میں زیادہ دیر تک رہتے ہیں اور یہ آسانی سے ہضم نہیں ہوتے۔

3 – مطلوبہ مقدار میں چکنائی نہ کھانا

طبی تحقیقوں سے ثابت ہوچکا ہے کہ چکنائی دماغ کی نالیوں میں اثر دکھا کر شکم سیری کے احساس کو بڑھا دیتا ہے۔ لحمیات کی طرح چکنائی بھی ایک مرکب غذائی عنصر ہے جس کو ٹوٹنے اور ہضم ہونے کے لیے طویل وقت درکار ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے انسان اس کو کھانے کے بعد دیر تک آسودگی محسوس کرتا ہے۔

4 – ریشے دار غذا کا کم کھانا

ریشے کو ایک صحت مند نظام ہضم کا بنیادی حصہ شمار کیا جاتا ہے۔ ریشے کی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ پہلی قسم ناقابل تحلیل ریشہ مثلا السی کے بیج، دالیں، جئی اور اسٹرابری وغیرہ۔ دوسری قسم قابل تحلیل ریشہ مثلا سبزیاں، پھل اور گری (مغز) وغیرہ۔ ان کو کھانے سے انسان خون میں شکر کی سطح کی بہتری کے علاوہ زیادہ وقت تک آسودگی محسوس کرتا ہے۔

5 – چیا کے بیج کی اہمیت سے ناواقفیت

ان کالے بیجوں کا اصلی وطن جنوبی امریکا ہے۔ یہ لحمیات اوراومیگا 3 کی کثیر مقدار رکھنے کی وجہ سے معدے میں زیادہ دیر تک باقی رہتے ہیں اور پانی کے ساتھ مل کر ان کا حجم 10 سے 12 گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے معدہ پھول جاتا ہے اور بھوک کا احساس نہیں ہوتا۔

6 – پھل کھانے میں زیادتی

پھلوں میں قدرتی شکر اور فرکٹوز پایا جاتا ہے۔ اس لیے جسم کو مطلوب شکر کے مرکزی ذریعے کے طور پر پھلوں پر انحصار کیا جاسکتا ہے تاہم اس کی انتہائی حد روزانہ دو حصے ہے۔ مزید برآں کسی بڑے کھانے کو چھوڑنے کی صورت میں بھی پھلوں پر گزارہ کیا جاسکتا ہے۔

7 – بھوکے ہونے کا خیال

بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہِیں کہ وہ بھوکے ہیں مگر درحقیقت ان کے جسموں کو آبیدہ ہونے کی ضرورت ہوتی ہے جس کی وجہ جسم بھوک کے اشارے بھیجنا شروع کر دیتا ہے۔ لہذا بھوک کے احساس کے وقت ایک گلاس پانی پینے کی کوشش کریں۔ اس کے علاوہ دو بڑے کھانوں کے درمیان بھی پانی اور مشروبات سے جسم کو آبیدہ رکھیں تاکہ بھوک کا احساس نہ بڑھے۔ زیادہ رس دار پھل اور سبزیاں مثلا سیب، تربوز، موسمی اور کھیرا وغیرہ کھائیں۔

8 – تیزی کے ساتھ کھانا

اگرچہ ہماری زندگی بہت تیز اور مصروف ہوچکی ہے تاہم لازم ہے کہ ہم کھانے کو دھیرے دھیرے کھائیں۔ اس کے لیے 15 سے 20 منٹ کا وقت لینا چاہیے۔ ہلکی رفتار سے کھانا چبانے سے دماغ کو شکم سیری کے اشارے ملتے ہیں جس سے انسان کھانے سے رک جاتا ہے۔

9 – کھانے کی مطلوبہ مقدار نہ لینا

آپ اپنا وزن کم کرنے یا صحت مند رہنے کے لیے جس غذائی نظام کو بھی اپنائیں ساتھ ہی یہ ضروری ہے کہ کسی بھی بڑے کھانے کو نہ چھوڑیں۔ اس سے بھوک کا احساس بڑھ جاتا ہے۔ اگر کوئی غذائی حراروں کے نظام پر اعتماد کررہا ہے تو بہت ہوگا کہ کھانے کا آغاز سلاد یا سوپ سے کیا جائے۔

10 – نیند کا پورا نہ ہونا

طبی تحقیقوں سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ نیند کی کمی کا زیادہ کھانے سے براہ راست تعلق ہوتا ہے۔ پوری نیند نہ ہونے سے بھوک اور شکم سیری کے ہارمون کا نظام بے ترتیب ہوجاتا ہے۔

اس واسطے سیمپکن اس بات کی ہدایت کرتی ہیں کہ رات کو سونے سے قبل نیم گرم پانی سے غسل کر کے ہربل چائے نوش کریں اور تمام الکٹرونک آلات مثلا موبائل، ٹیبلیٹ وغیرہ کو دور کردیں تاکہ اچھی نیند سے لطف اندوز ہوسکیں۔

11 – زیادہ کھانے کی ہوس

بعض لوگ ریستورانوں کی خصوصی پیش کش کی اتنی ہوس کا شکار ہوتے ہیں جو کسی طور ختم نہیں ہوتی۔ ان کو انٹرنیٹ اور ٹیلی وژن پر کھانا پکانے کے مقابلوں اور پروگراموں کا بھی بے تحاشہ شوق ہوتا ہے۔ یہ خصوصی توجہ کھانے کو دماغ کی اولین ترجیحات میں رکھ دیتی ہے جس کے نتیجے میں انسان کو غیر ضروری طور پر بھوک کا احساس ہوتا ہے اور وہ کھانے کی طرف اکساہٹ کے سامنے مزاحمت سے قاصر ہوجاتا ہے۔