ایران کا سعودی عرب میں گڑبڑ کا مذموم خفیہ منصوبہ بے نقاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سعودی عرب میں ایران کے خفیہ سیل سے وابستہ افراد کے خلاف مقدمات کی سماعت جاری ہے۔اس دوران ان سے تفتیش سے ہوشربا انکشافات سامنے آرہے ہیں اور ایران حج دفتر کے مالک کے اعترافی بیانات سے پتا چلا ہے کہ ایران نے حج کے مقدس موقع پر دہشت گردی کی منصوبہ بنا رکھا تھا۔

اس وقت الریاض کی ایک عدالت میں تیس سعودی شہریوں ،ایک افغان اور ایک ایرانی شہری کے خلاف ایران کے لیے جاسوسی کے الزامات میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔ان تمام افراد پر ایرانی انٹیلی جنس سے وابستہ سیل کے ارکان ہونے کا الزام ہے۔ان سے تفتیش کے دوران سعودی عرب کے امن وسلامتی کو تہ وبالا کرنے ،حج کے دوران افراتفری اور کنفیوژن پھیلانے کے متعدد ایرانی منصوبوں کے شواہد سامنے آچکے ہیں۔

ایک مقامی اخبار میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق ایک ملزم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک آڈیو پیغام بھیجا تھا اور اس میں ان سے مکہ میں ایک شیعہ مرکز کے قیام کے لیے مالی مدد طلب کی تھی۔اس کے اعترافی بیان کے مطابق ''یہ مرکز فرقہ واریت اور بغاوت کے بیج بونے کے لیے استعمال کیا جائے گا اور حج کے دوران اہم معلومات ایرانی انٹیلی جنس کو فراہم کرے گا۔اس مرکز کو اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) کے ساتھ کام کرنے والے ایرانی انٹیلی جنس کے اہلکاروں کی مدد حاصل ہوگی''۔

اس اعترافی بیان کے بعد اب اس امر میں کسی شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی ہے کہ ایران حج کے دوران گڑ بڑ پھیلانے کے لیے اپنی مجرمانہ کوششوں سے باز نہیں آئے گا۔وہ منافرت پر مبنی مخالفانہ نعرے پھیلانے سے گریز نہیں کرے گا۔ان تمام سازشوں کا تانا بانا اسلامی اُمہ کو تقسیم کرنے کے لیے بُنا گیا تھا۔

ایران حج کے دوران اپنے مذموم مقاصد کے حصول اور فرقہ واریت پھیلانے کے لیے کوئی بھی ذرائع استعمال کرنے،انسانی جانیں لینے اور املاک کو نقصان پہنچانے سے دریغ نہیں کرے گا۔ایرانی حکام نے لبنان میں اپنی بغل بچہ دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کے عہدے داروں سے بھی اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ملاقاتیں کی ہیں۔

ایران اس مقصد کے لیے اپنے سرکاری ٹیلی ویژن چینل العلم کے نامہ نگاروں کو استعمال کرنے کی بھی کوشش کرچکا ہے۔جاسوسی سیل کے گرفتار ایک رکن کے اعترافی بیان کے مطابق سعودی عرب کے بعض علاقوں میں ان نامہ نگاروں کو ایرانی مقاصد کے لیے استعمال بھی کیا جاچکا ہے۔اس سب کا مقصد سعودی مملکت کے تشخص کو مجروح کرنا ،مظاہروں اور حج کے دوران تخریبی سرگرمیوں کی حمایت کرنا تھا۔

اس چینل نے سیل کے ایک رکن کو کمپیوٹر اور کیمرا چلانے ،عازمین حج کے اجتماعات اور فوجی تنصیبات کی تصاویر اور سرکاری تقاریر بھیجنے کی تربیت دی تھی۔اس سیل سے تفتیش کے مطابق ایران نے سعودی عرب کی دفاعی تنصیبات کے بارے میں خفیہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تھی اور یہ سعودی عرب کی قومی سلامتی ،اتحاد،تحفظ اور اس کی مسلح افواج کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کی جاسکتی تھیں۔

اس سیل کے متعدد ارکان نے آیت اللہ علی خامنہ ای سے اپنی ملاقاتوں کی تصدیق کی ہے۔یہ ملاقاتیں ایرانی انٹیلی جنس نے کرائی تھیں۔انھوں نے سعودی عرب کے مفادات کو نقصان پہنچانے ،اقتصادی تنصیبات پر حملوں ،امن عامہ کو سبوتاژ کرنے سے متعلق تخریبی سرگرمیوں میں ملوّث ہونے کا بھی اعتراف کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان عناصر میں سے بیشتر نے ایران اور لبنان کا سفر کیا تھا۔وہاں ایرانی انٹیلی جنس کے اہلکاروں سے مختلف جگہوں پر ملاقاتیں کی تھی اور ان سے جاسوسی کی تربیت حاصل کی تھی۔وہ ایرانی انٹیلی جنس کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے تھے اور انھوں نے سعودی عرب کی اہم تنصیبات کے بارے میں معلومات اکٹھی کی تھیں۔

لیکن سعودی انٹیلی جنس نے ایرانی جاسوسوں کے اس مربوط نیٹ ورک کو توڑ دیا تھا اور وزارت داخلہ کے ساتھ رابطے کے ذریعے مملکت کے چار علاقوں مکہ مکرمہ ،مدینہ ،الریاض اور مشرقی صوبے میں کارروائیوں کے دوران ان مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا تھا اور اب انھیں قانون کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں