ایران : اخلاقی پولیس سے نجات کے لیے خاتون نے بال منڈا دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوشل میڈیا پر ایرانی حلقوں کی جانب سے تہران کی ایک نوجوان خاتون کی تصویر زیر گردش ہے جس نے ملک میں اخلاقی پولیس سے جان چھڑانے کے لیے اپنے سر کے پورے بال منڈوا دیے۔ اخلاقی پولیس نے حال ہی میں 7 ہزار مرد اور خواتین اہل کاروں پر مشتمل ایک نیا شعبہ خفیہ نگرانی کے لیے مخصوص کیا ہے۔ یہ شعبہ لڑکیوں اور خواتین کے حجاب کی نگرانی کرتا ہے اور پاسداران انقلاب اور باسیج کے مقرر کردہ طریقہ حجاب کی خلاف ورزی کرنے والیوں اور اپنے بناؤ سنگھار کی نمائش کرنے والیوں کو گرفتار کرتا ہے۔

ایرانی نوجوان خاتون نے اپنی سر منڈی تصویر فیس بک پرMy Stealthy Freedom نامی پیج کو ارسال کی تھی۔ یہ پیج پاسداران انقلاب کی جانب سے مسلط کردہ لازمی حجاب کی مخالف ایرانی خواتین کے گروپ کا ہے۔

خاتون نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ " میں نے سرطان میں مبتلا ننھے فرشتوں (بچوں) کی مدد کے لیے اپنے بال فروخت کر دیے۔ جب میں سڑک پر نکلی تو میرے دل نے کہا کہ جب تک میرے بال نہیں ہوں گے اس وقت تک اخلاقی پولیس مجھے سر ڈھانپنے کو نہیں کہے گی"۔

تاہم ایرانی پولیس نے اس معاملے کو قبول نہیں کیا باوجود اس کے کہ ایرانی قانون خواتین کو حجاب کا پابند اس لیے کرتا ہے تاکہ وہ اپنے بالوں کو ڈھانپیں۔

یاد رہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ حجاب کی نگرانی کے لیے 7000 خفیہ پولیس اہل کاروں کی تقرری کے فیصلے کا حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم سخت گیروں کی جانب سے اس منصوبے پر عمل درامد کے لیے اصرار جاری ہے۔

ایرانی حکام نے ان فیشن ماڈلز کے خلاف بھی مہم شروع کی تھی جو حجاب کے بغیر اپنی تصاویر سوشل میڈیا بالخصوص انسٹاگرام پر پوسٹ کرتی ہیں۔

ایرانی سرکاری ٹی وی نے گزشتہ پیر کے روز تصدیق کی تھی کہ حکام نے سوشل میڈیا پر فیشن ماڈلنگ پیش کرنے میں شریک 170 افراد میں سے 8 گرفتار کرلیا ہے۔

اس معاملے نے ایران میں اصلاح پسندوں اور قدامت پسندوں کے درمیان شدید تنازع کھڑا کردیا ہے۔ بالخصوص اس وقت کے بعد سے جب گزشتہ برس جون میں پارلیمنٹ میں 216 ارکان نے حکومت نے مطالبہ کیا تھا کہ "حجاب اور عفت" کا قانون نافذ کیا جائے۔ اس قانون کو گزشتہ برس جنوری میں شوری نگہبان نے مسترد کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size