.

"حصّہ".. دانتوں کی سعودی خواتین معالجوں کی پسندیدہ مریضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حِصّہ" ایک جاپانی مریضہ ہے جو شہزادی نورہ یونی ورسٹی کے ڈینٹل کالج کی طالبات کی پسندیدہ مریضہ بھی ہے۔ یہ طالبات روزانہ دسیوں مرتبہ اس کا چیک اپ کرتی ہیں۔

"حِصّہ" درحقیقت "تعلیمی روبوٹ" کہلائی جانے والی وہ الکٹرونک ڈمی ہے جو یونی ورسٹی کی تعلیم میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ عملی تربیت کے میدان میں یہ ٹکنالوجی فارغ التحصیل ہونے سے قبل طالبات کی کارکردگی کی سطح بلند کرنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ شہزادی نورہ یونی ورسٹی کا ڈینٹل کالج دنیا میں پہلا ادارہ ہے جس نے جاپان کے بعد یہ جدید ٹکنالوجی حاصل کی ہے۔

ڈینٹل کالج کی سربراہ ڈاکٹر ابتسام بنت محمد الماضی کا کہنا ہے کہ یہ خیال طالبات کو دانتوں کے کلینک سے ملتا جلتا ماحول فراہم کرنے کی ضرورت کے تحت سامنے آیا۔ اس تلاش میں انہوں نے دیکھا کہ جاپان کی ایک یونی ورسٹی نے ایک ایسا خودکار مریض ایجاد کیا ہے جو ڈاکٹروں کے زیرنگرانی مریضوں پر تربیت کے آغاز سے قبل طلبہ و طالبات کو عملی تربیت دینے میں مدد کرتا ہے۔

ڈاکٹر ابتسام کا کہنا تھا کہ "ہم نے اس الکٹرونک ڈمی کو سعودی عرب منتقل کرنے کا طریقہ کار جاننے کے لیے جاپان میں شووا یونی ورسٹی کے پروفیسر میکی سے رابطہ کیا"۔ انہوں نے باور کرایا کہ ڈمی پر طالبات کو تربیت دینے سے، ان طالبات کے حقیقی مریض کی جانب سے کسی بھی ردعمل سے نمٹنے کی صلاحیتوں کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ مثلا مریض کو چھینک آنا، دل کی دھڑکن تیز ہوجانا، گھبراہٹ یا خون کا بہنا وغیرہ۔

ڈاکٹر ابتسام نے الکٹرونک ڈمی کو "حصّہ" کے نام سے پکارنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ "سابق فرماں روا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی حرم شہزادہ حصہ الشعلان کے ڈینٹل کالج کے دورے کے موقع پر ان کے اعزاز میں ڈمی کو یہ نام دیا گیا"۔