.

اماراتی شہریوں کا بچے کے قاتل کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے شہریوں نے ایک سات سالہ بچے کے اندوہناک قتل پر سوشل میڈیا پر اپنے سخت غم وغصے کا اظہار کیا ہے اور انھوں نے اس کے قاتل کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس مقتول بچے عبیدہ ابراہیم آل اقرباوی کی لاش اتوار کے روز دبئی کے علاقے الورقا سے ملی تھی۔ وہ دو روز پہلے جمعہ کو شارجہ کے انڈسٹریل ایریا سے لاپتا ہوگیا تھا اور اس کو آخری مرتبہ اپنے گھر کے باہر کھیلتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔

اماراتی پولیس نے اردن سے تعلق رکھنے والے اڑتالیس سالہ ندال عیسیٰ عبداللہ کو اس بچے کو قتل کرنے کے شُبے میں گرفتار کر لیا ہے۔اس نے مبینہ طور پر پہلے عبیدہ سے زیادتی کی تھی اور پھر اس کو گلا دبا کر قتل کر دیا تھا۔اماراتی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا ہے لیکن ابھی اس کے خلاف مقدمے کی سماعت شروع نہیں ہوئی ہے۔

دبئی پولیس کے سربراہ میجر جنرل خامس الموزینہ نے بتایا ہے کہ اس بچے کو شارجہ انڈسٹریل ایریا سے ایک گیراج کے سامنے سے اغوا کیا گیا تھا۔اس کا والد اس گیراج میں کام کرتا ہے۔

انھوں نے ڈاکٹروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ ''اس بچے کو گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا اور لاش ملنے سے چوبیس گھنٹے سے بھی کم وقت میں اس کی موت واقع ہوئی تھی۔ بچے کے سینے اور ہاتھوں پر سختی سے پکڑنے اور دبانے کے نشانات پائے گئے ہیں اور اس سے جنسی بدفعلی کی گئی تھی''۔

متحدہ عرب امارات میں اغوا اور قتل کی سزا موت ہے اور ایسے مجرموں کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارا جاتا ہے۔سوموار کے روز ٹویٹر پر ہیش ٹیگ ''عبیدہ کے قاتل کو سرعام تہ تیغ کیا جائے'' سرفہرست رہا تھا اور اس کو قریباً دس لاکھ صارفین نے ملاحظہ کیا تھا۔