گھر کے احاطے میں اترنے والا طیارہ صرف دو سال دور

لیلیوم روایتی ایندھن کے بجائے بجلی پر چلنے کی صلاحیت کا حامل ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سائنس اور ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی نے انسان کو تیز رفتار اور آرام دہ سفر کی بے پناہ سہولیات مہیا کی ہیں مگر ان سہولیات میں مزید بہتری کا سفر بھی جاری ہے۔ بڑے بڑے ہوائی اڈوں سے اڑنے والے مسافر طیاروں کے بعد اب ماہرین ایسے چھوٹے چھوٹے طیارے بھی بنانے کے لیے کوشاں ہیں جن کی لینڈنگ اور ٹیک آف کے لیے کسی رن وے اور ہوائی اڈے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ وہ ہیلی کاپٹر کی طرح عمودی انداز میں کسی بھی گھر کی چھت یا صحن میں اترنے اور اڑان بھرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہوں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وزن میں ہلکی اور چھوٹی جسامت کے اسمارٹ ہوائی جہازوں کی تیاری میں جرمنی کے ماہرین کی ایک ٹیم مصروف عمل ہے۔ انہوں نے مجوزہ طیارے کا ڈیزاین تیار کرنے کے بعد اسے "لیلیوم" کا نام دیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ لیلیوم سنہ 2018ء تک مارکیٹ میں دستیاب ہوگا۔ یہ ایک ایسا چھوٹا طیارہ ہوگا جو کسی بھی مکان کی چھت یا صحب میں اترنے اور وہیں سے باآسانی اڑنے کی صلاحیت رکھے گا۔ اس کی لینڈنگ اور ٹیک آف سے پڑوسیوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑے گا۔ دو سیٹر اس چھوٹے طیارے کی خصوصیت یہ ہوگی کہ وہ پندرہ میٹر کی جگہ پر عمودی انداز میں اترسکے گا۔

ماہرین نے اس طیارے کی تجرباتی پرواز کی ہے۔ بجلی پر چلنے والے اس طیارے کی موجودہ رفتار 400 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے جب کہ اس کی رفتار پانچ سو کلومیٹر فی گھنٹہ تک بڑھائی جاسکتی ہے۔ اس طیارے کا خاکہ جرمنی کی میونخ یونیورسٹی کے چار طلباء نے پیش کیا تھا جس کے بعد اس پر کی تیاری پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ یہ طیارہ صرف امراء کے لیے ایک نئی عیاشی نہیں بلکہ عام لوگوں کے روز مرہ ضروریات کے کام آسکے گا۔ اس لیے اسے روٹین کے ایک چھوٹے مسافر طیارے کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ "لیلیوم" کی تیاری میں مصروف ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ایک ایسے طیارے کی تیاری ہے جو ماحولیاتی آلودگی، شو شرابے اور دیگر منفی اثرات سے پاک ہو اور عام لوگوں کو اس سے فایدہ پہنچے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں